تاجکستان میں گرفتاری اور کابل دھماکے، افغانستان پھر دہشتگردی کا گڑھ بن رہا ہے؟

منگل 20 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گزشتہ روز تاجکستان کے ساتھ افغان سرحد پر 4 افراد کی گرفتاری اور ہلاکت اور کابل کے مرکزی علاقے شھرِ نو میں آج صبح دھماکے نے ایک بار پھر خطے میں سیکیورٹی خدشات کو فروغ دیا ہے، جس سے سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا افغانستان دوبارہ دہشتگردی کا گڑھ بنتا جا رہا ہے یا یہ واقعات علاقائی عدم استحکام کی عکاسی کرتے ہیں۔

تاجکستان کی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی نے ہفتہ کو بتایا کہ بدخشاں صوبے کے قریب سرحد پار کرنے والے 4 دہشتگردوں کو سرحدی گارڈز نے ہتھیار ڈالنے سے انکار پر مشتبہ حملہ آور قرار دیتے ہوئے ہلاک کیا۔ تاجک حکام کا کہنا تھا کہ یہ افراد دہشتگرد تنظیم کے ممبر تھے، لیکن مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس واقعہ پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ افراد سمگلرز تھے، جن کا تعلق منشیات یا غیر قانونی اشیا کی منتقلی سے ہوسکتا ہے، اور حکومت اس کی تفتیش جاری رکھے ہوئے ہے۔

مزید پڑھیں: افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دھماکا، متعدد افراد ہلاک

یہ واقعہ اس پس منظر میں سامنے آیا ہے کہ گزشتہ برس دسمبر 2025 میں تاجکستان نے سرحدی علاقوں میں چین کے مزدوروں کے قتل کے بعد کابل کے ساتھ مشترکہ سیکیورٹی تعاون بڑھانے کا عزم ظاہر کیا تھا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پڑوسی ممالک افغانستان کی سرحدی سیکیورٹی کو بہت سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ اُس سے قبل 29 نومبر 2025 کو بھی تاجکستان میں افغان سائیڈ سے حملے کیے گئے جن میں چینی انجینئرز کی ہلاکت ہوئی۔

کابل میں دھماکا: محفوظ علاقہ بھی نشانہ

کل صبح کابل کے شھرِ نو علاقے میں ایک شدید دھماکا ہوا، جس میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ افغانستان کے محکمہ داخلہ کے ترجمان عبدالمتین قانی نے بتایا کہ واقعہ ایک مشہور ہوٹل کے قریب پیش آیا، اور ابتدائی طور پر ہلاکتوں و زخمیوں کی تعداد واضح نہیں ہوسکی، جبکہ تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
شھرِ نو کابل کا نسبتاً محفوظ اور وسطی کاروباری علاقہ سمجھا جاتا ہے، جہاں سفارتی مشنز، ہوٹل اور کاروباری ادارے واقع ہیں۔ اسی وجہ سے اس دھماکے نے سیکیورٹی خدشات میں اضافہ کیا ہے۔

کیا افغانستان دہشتگردی کا مرکز بن رہا ہے؟

گزشتہ ماہ تہران کانفرنس میں ظاہر کیے گئے خدشات نے واضح کیا کہ خطے کے ممالک افغانستان میں دہشتگردی کے امکانات کو سب سے بڑا سیکیورٹی خطرہ سمجھتے ہیں۔ اگرچہ کانفرنس میں طالبان حکومت کی نمائندگی نہ ہونے کے باعث کسی مشترکہ اعلامیے پر اتفاق نہیں ہو سکا، یہ صورتِ حال ظاہر کرتی ہے کہ علاقائی اتحاد افغانستان سے متعلق سیکیورٹی خدشات کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ پاکستان، چین، ایران اور روس نے دہشتگرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔دہشتگردی کے خلاف عملی اور قابلِ تصدیق اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: انڈر 19 ورلڈ کپ: افغانستان نے ویسٹ انڈیز کو 138 رنز سے ہرا دیا

پاکستان کا مؤقف

پاکستان کا مسلسل مؤقف رہا ہے کہ افغان طالبان رجیم پاکستان میں دہشتگردوں کو معاونت فراہم کرتی ہے۔ اور جب تک افغان حکومت دہشتگردی کی روک تھام کے لئے قابلِ تصدیق اقدامات نہیں کرتی افغانستان کے ساتھ مزید بات چیت نہیں ہوسکتی۔ پاکستان کے اس مؤقف کو دنیا بھر کی بڑی طاقتیں تسلیم کرتی ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹس بھی پاکستان کے تحفظات کے اجاگر کرتی ہیں، جس میں بتایا گیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے حملے افغان سرزمین سے سرحد پار پاکستان میں کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں طالبان حکومت کے اس دعوے کو ناقابلِ اعتماد قرار دیا گیا ہے کہ افغانستان میں دہشتگرد گروہ موجود نہیں، اور واضح کیا گیا ہے کہ افغان سرزمین سے ہونے والی سرگرمیاں پاکستان کے لیے سب سے بڑا سیکیورٹی چیلنج بنی ہوئی ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹس افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی کے بارے میں کیا کہتی ہیں؟

اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹس افغانستان میں دہشتگردی کی صورتحال کو نہایت تشویشناک قرار دیتی ہیں اور واضح کرتی ہیں کہ اگرچہ ملک میں مجموعی سیکیورٹی کنٹرول میں بہتری کا تاثر دیا جاتا ہے، تاہم عملی طور پر شدت پسند گروہوں کی سرگرمیاں بدستور ایک سنگین خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ اقوام متحدہ کی تازہ ترین سیکیورٹی رپورٹ کے مطابق صرف 2025 کے دوران افغانستان میں مجموعی طور پر 9,775 سیکیورٹی واقعات رونما ہوئے، جن میں عسکری جھڑپیں، دہشتگرد حملے اور دیگر پرتشدد کارروائیاں شامل تھیں۔ ان واقعات میں کم از کم 13 حملے داعش خراسان سے منسوب کیے گئے جبکہ 201 واقعات کی ذمہ داری طالبان مخالف مسلح گروہوں نے قبول کی۔ انہی واقعات کے نتیجے میں کم از کم 186 شہری ہلاک اور 759 زخمی ہوئے۔ یہ اعداد و شمار اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملک بھر میں تشدد کی سطح اب بھی بلند ہے اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی سرگرمیاں افغانستان کے داخلی استحکام کے لیے مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہیں۔

مزید پڑھیں:چاہ بہار بندرگاہ کی بندش سے بھارت اور افغانستان کو کتنا نقصان ہوسکتا ہے؟

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی دہشتگردی کی نگرانی سے متعلق تازہ رپورٹ میں داعش خراسان کو افغانستان کے لیے سب سے بڑا اور منظم خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ پورٹ کے مطابق اس گروہ کے قریباً 2 ہزار جنگجو اب بھی افغانستان میں سرگرم عمل ہیں، جو نہ صرف مقامی سطح پر حملوں میں ملوث ہیں بلکہ بین الاقوامی دہشتگرد کارروائیوں کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ داعش خراسان کی بھرتی صرف افغان شہریوں تک محدود نہیں بلکہ وسطی ایشیا اور دیگر خطوں سے بھی جنگجو شامل ہو رہے ہیں، جن کا مقصد بڑے پیمانے پر حملے کرنا، مالی وسائل جمع کرنا اور عالمی سطح پر اپنی موجودگی کو مستحکم رکھنا ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹس میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان اس وقت بیس سے زائد علاقائی اور بین الاقوامی دہشتگرد تنظیموں کی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ان میں داعش خراسان، تحریک طالبان پاکستان القاعدہ، ایسٹرن ترکستان اسلامک موومنٹ، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان اور جماعت انصاراللہ جیسے خطرناک گروہ شامل ہیں۔ یہ تنظیمیں نہ صرف افغان سرزمین کے اندر کارروائیاں کرتی ہیں بلکہ بعض اوقات پڑوسی ممالک اور بین الاقوامی اہداف کو بھی نشانہ بناتی ہیں۔ اسی رپورٹ میں یہ تشویشناک پہلو بھی سامنے آیا ہے کہ طالبان انتظامیہ نے بعض سابق دہشتگرد جنگجوؤں کو اپنی سیکیورٹی فورسز میں شامل کیا ہے، جس سے اداروں میں اندرونی نفوذ اور انتہا پسند نظریات کے پھیلاؤ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

ایک علیحدہ اقوام متحدہ رپورٹ میں داعش خراسان کی جانب سے بچوں کے استعمال کو انتہائی خطرناک رجحان قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ گروہ 14 سال سے کم عمر بچوں کو بھرتی کر کے انہیں ذہنی اور عسکری تربیت دے رہا ہے اور بعض کو خودکش حملوں کے لیے تیار کیا جا رہا ہے، حتیٰ کہ اسکول جیسے اداروں کو بھی اس مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ نے اس عمل کو نہایت تشویشناک اور مستقبل کے لیے تباہ کن قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں:ٹی ٹی پی افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث، ٹھوس شواہد موجود ہیں: علی امین گنڈا پور

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی نگرانی ٹیم کے مطابق اگرچہ افغانستان کے بعض علاقوں میں وقتی طور پر داخلی استحکام دکھائی دیتا ہے، تاہم داعش خراسان اور دیگر شدت پسند گروہوں کی موجودگی پورے خطے کے لیے بدستور سنگین خطرہ ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان گروہوں کی سرگرمیاں صرف افغانستان تک محدود نہیں رہیں بلکہ وسطی ایشیا اور بین الاقوامی سطح پر دہشتگردی کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مودی سرکار کے بھارت میں اقلیتیں مسلسل احساسِ محرومی اور امتیازی سلوک کا شکار

عماد وسیم کی دھمکیاں منظر عام پر، سابق اہلیہ ثانیہ اشفاق نے واٹس ایپ چیٹس شیئر دیں

عمران خان کیخلاف شہباز شریف کے ہرجانہ کیس میں ٹرائل کورٹ کی کارروائی روک دی گئی

راجوڑی میں عسکریت پسندوں سے بھارتی فوج کی جھڑپیں، 4 اہلکار ہلاک، متعدد شدید زخمی

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ایڈہاک صدر محی الدین نے عماد بٹ پر لگی 2 سال کی پابندی ہٹادی

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

بنگلہ دیشی الیکشن، اور سونے کی درست ترتیب