امن و امان کے لیے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو وفاق کے ساتھ بیٹھنا ہوگا، احمد کریم کنڈی

منگل 20 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما احمد کریم کنڈی نے وفاق اور خیبر پختونخوا حکومت پر موجودہ سیاسی تناؤ کم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ امن و امان کے حوالے سے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سنجیدہ دکھائی نہیں دے رہے اور نہ ہی اپنے اختیارات استعمال کر رہے ہیں جبکہ انہیں مسئلے کے حل کے لیے وفاق کے ساتھ بھی بیٹھنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: ایبٹ آباد، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے قافلے کو بلدیاتی نمائندوں نے روک لیا

احمد کریم کنڈی نے پشاور میں وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے موجودہ سیاسی صورتِ حال، صوبے کے امن و امان اور حکومتی امور پر بات کی۔

’سہیل آفریدی اپنے اختیارات استعمال نہیں کر رہے‘

احمد کریم کنڈی نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت امن و امان اور دیگر مسائل کے حل میں سنجیدہ نہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ میں سہیل آفریدی کو ناتجربہ کار نہیں کہوں گا اور ان کے ساتھ پوری کابینہ بھی موجود ہے جو ایسے لوگ ہیں جو معاملات کو بہتری کی طرف لے جا سکتے ہیں۔

احمد کریم کنڈی نے کہا کہ جب تک مذاکرات نہیں ہوں گے مسائل کیسے حل ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی وزیراعلیٰ ہیں اور ان کے پاس اختیارات ہیں لیکن وہ ان اختیارات کو استعمال نہیں کر رہے۔

مزید پڑھیے: دہشتگردی پر پی ٹی آئی کا خطرناک مؤقف، سہیل آفریدی کا اگلا ہدف کیا ہوگا؟

انہوں نے کہا کہ اس وقت صوبہ ایک انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے اور اگر سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں اس کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔

وفاق کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے تو دہشتگردی کیسے ختم ہوگی؟

احمد کریم کنڈی نے کہا کہ امن و امان صوبے اور وفاق دونوں کی ذمہ داری ہے اور سیاسی تناؤ کی فضا میں امن و امان کیسے بہتر ہو سکتا ہے؟

انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ وفاق کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے تو مسائل کیسے حل ہوں گے؟

انہوں نے کہا کہ کوئی بیٹھنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے منعقدہ آل پارٹیز امن کانفرنس میں فیصلہ ہوا تھا کہ جو معاملات وفاق کے کنٹرول میں ہیں وہ وفاق کے سامنے اٹھائے جائیں گے اور وفاق کو تحریری طور پر بھی آگاہ کیا گیا۔

مزید پڑھیں: سہیل آفریدی کو افغانستان کا سفیر یا مستقل مندوب ہونا چاہیے، گورنر خیبرپختونخوا کی وزیراعلیٰ پر تنقید

احمد کریم کنڈی نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر اسے انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر صوبہ وفاق کے ساتھ نہیں بیٹھے گا تو معاملہ آگے کیسے بڑھے گا۔

’پی ٹی آئی کو ہمدردی کے ووٹ ملے، ترقیاتی ایجنڈا نہیں‘

احمد کریم کنڈی نے پی ٹی آئی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس کے ایجنڈے میں ترقی یا ترقیاتی کام شامل ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو ہمدردی کا ووٹ ملا ہے۔ ’پی ٹی آئی ترقیاتی کاموں پر توجہ نہیں دے رہی، کوئی پوچھنے والا نہیں‘

انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئی سیاسی جماعت زیر عتاب آتی ہے تو اس کے ساتھ ہمدردی بڑھ جاتی ہے اور پھر نہ اس کا احتساب ہوتا ہے اور نہ ہی اس سے ترقی، گورننس یا کرپشن کے حوالے سے سوال کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ اراکین کو بھی ہمدردی کے ووٹ ملے ہیں جو حقیقت میں کونسلر کی نشستیں جیتنے کے بھی قابل نہیں تھے۔

یہ بھی پڑھیے: سہیل آفریدی کی جانب سے افغانستان کی ترجمانی قابل مذمت اور شرمناک عمل ہے، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی تحریک کے نام پر پارٹی بانی کو پیچھے دھکیل رہی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ جو تحریک چلائی جا رہی ہے اس سے عمران خان کو مزید اندھیرے میں دھکیلا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بھارتی فلم دھرندھر نیٹ فلکس پر ریلیز، اصلی فلم کہاں گئی؟

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا

پاکستان اور بھارت انڈر 19 کا تاریخی ٹکراؤ، سپر 6 میں اہم معرکہ

نیویارک میں برف ہٹانے کے لیے ’ہاٹ ٹب‘ متعارف، شہریوں کو آسانی کی امید

پریانکا چوپڑا ملک چھوڑنے پر کیوں مجبور ہوئیں؟ بالی ووڈ پروڈیوسر کے انکشافات

ویڈیو

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا

سخت شرائط کے باوجود اسٹینڈ بائی پروگرام حاصل کیا اور پاکستان کو اقتصادی بحران سے نکالا، شہباز شریف

کیا محمود اچکزئی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کروا پائیں گے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کہانی: افغان طالبان سے پاکستانی طالبان تک

کیا سوشل میڈیا کا دور ختم ہوا؟

ایک تھا ونڈر بوائے