امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ خریدنے کے مطالبے اور یورپی ممالک پر تجارتی پابندیوں کی دھمکیوں کے بعد ڈنمارک نے آرکٹک خطے میں اپنی فوجی موجودگی مزید بڑھا دی ہے۔ کوپن ہیگن نے واضح کیا ہے کہ گرین لینڈ کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:گرین لینڈ برائے فروخت نہیں، صدر ٹرمپ کے منصوبے کیخلاف ڈنمارک میں شدید احتجاج
ڈنمارک نے امریکا کے ساتھ بڑھتے ہوئے سیاسی اور سفارتی تناؤ کے تناظر میں گرین لینڈ میں مزید فوجی بھیج دیے ہیں۔ ڈینش دفاعی حکام کے مطابق پیر کے روز فوجیوں کا ایک نیا دستہ گرین لینڈ پہنچا، جس کے بعد جزیرے میں تعینات فوجیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔
Denmark sends more troops to Greenland amid tensions with Trump https://t.co/ngacqccuOT pic.twitter.com/eZ0EmlkqEd
— Al Jazeera English (@AJEnglish) January 20, 2026
ڈنمارک کی جوائنٹ آرکٹک کمانڈ کے کمانڈر میجر جنرل سورین اینڈرسن نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ کم از کم 100 فوجی دارالحکومت نوک میں تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ مزید 100 فوجی کانگرلوسواک کے علاقے میں تعینات کیے گئے ہیں۔
ان کے مطابق یہ تعیناتی آرکٹک اینڈیورنس نامی فوجی مشقوں کا حصہ ہے، جو موجودہ حالات کے پیش نظر شروع کی گئی ہیں۔
ڈینش فوج کے ترجمان نے بین الاقوامی میڈیا کو بتایا کہ گرین لینڈ میں فوجی نفری میں’نمایاں اضافہ‘ کیا جا رہا ہے تاکہ خطے میں سیکیورٹی اور دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنایا جا سکے۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر گرین لینڈ خریدنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے تقاضوں اور روس و چین کے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے گرین لینڈ امریکہ کے لیے اہم ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا ہے کہ اگر ڈنمارک تعاون نہ کرے تو امریکہ سخت اقدامات بھی کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کی گرین لینڈ ٹریڈ دھمکی، عالمی مارکیٹس میں ہلچل، ڈالر کمزور، یورپی صنعتیں پریشان
ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوکے راسموسن نے ٹرمپ کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرین لینڈ کے معاملے پر ڈنمارک کی ’سرخ لکیریں‘ واضح ہیں اور انہیں عبور نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دھمکیوں کے ذریعے کسی خطے کی ملکیت حاصل نہیں کی جا سکتی۔

ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں اعلان کیا ہے کہ اگر گرین لینڈ پر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو وہ ڈنمارک سمیت کئی یورپی ممالک پر 10 فیصد اضافی ٹیرف عائد کریں گے، جو جون تک بڑھا کر 25 فیصد کیا جا سکتا ہے۔
یورپی سیاست دانوں اور دفاعی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ نیٹو کے کسی رکن ملک کے خلاف امریکی دباؤ یا ممکنہ کارروائی اتحاد کے مستقبل کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔













