سپریم کورٹ میں بیوی کے قتل کے مقدمے میں مجرم اختر عباس کی بریت کی درخواست کی سماعت ہوئی، جس کے دوران عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔
کیس کی سماعت 3 رکنی بینچ نے جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں کی۔ سماعت کے دوران مجرم کے وکیل پرنس ریحان اور جسٹس ہاشم کاکڑ کے درمیان مکالمے بھی ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے: افغان طالبان کی خواتین کے لباس پر دوبارہ سختی، مانتو پہننے والی خواتین کو ہراساں کیا جانے لگا
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا، ملزم نے اپنی بیوی کو مارا ہو گا، آپ کے پاس سارے ایسے ہی کیسز آتے ہیں، آپ کے خلاف تو خواتین کو احتجاج کرنا چاہیے۔
ملزم اختر عباس نے بیان دیا کہ میری بیوی نے تنسیخ نکاح کا کیس کر رکھا ہے اور وہ میرے ساتھ نہیں رہتی۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ وقوعہ کب ہوا؟ وکیل نے بتایا کہ یہ واقعہ 2015 میں رات ایک بجے پیش آیا۔
وکیل نے مزید کہا، میڈیکل رپورٹ میں ایک زخم سینے پر آیا ہے۔ میری بیوی تنسیخ نکاح کے بعد اپنے والدین کے گھر رہتی تھی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ میری بیوی کو اس کے سوتیلے والد نے مارا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر کارکنان پر تشدد، خواتین سمیت 11 افراد کو حراست میں لیا گیا، پی ٹی آئی
پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ واقعہ کے مطابق گواہان بیک سائیڈ پر تھے، وہ کیسے پہنچان سکتے ہیں؟ جس پر جواب ملا کہ شادی 8 سال رہی، اتنے عرصے میں پہچان ہوجاتی ہے، جسامت سے قد سے بھی۔
یاد رہے کہ ٹرائل کورٹ نے مجرم کو سزائے موت دی تھی، جبکہ ہائی کورٹ نے اسے عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔














