کراچی کے مصروف تجارتی علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں 17 جنوری کی شب لگنے والی خوفناک آگ نے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔
چیف فائر آفیسر کے مطابق آگ پر 34 گھنٹوں کی مسلسل جدوجہد کے بعد قابو پا لیا گیا، تاہم عمارت اب بھی ساختی طور پر کمزور اور غیر محفوظ قرار دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: اندھیرا، دھواں اور بند دروازے، سانحہ گل پلازہ کیسے پیش آیا؟ ہوشربا انکشافات
ریسکیو ادارے، پاک فوج، رینجرز اور سول انتظامیہ کی مدد سے لاپتہ افراد کی تلاش کا عمل انتہائی احتیاط کے ساتھ جاری ہے۔ حکام کے مطابق اب تک 26 لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ ڈی سی آفس میں قائم ہیلپ ڈیسک کے مطابق 81 افراد لاپتا ہیں۔ شناخت کے لیے ڈی این اے سیمپلز لینے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔
حادثے کے بعد آگ بجھاتے ہوئے عمارت گرنے سے فائر فائٹر فرقان علی جان کی بازی ہار گئے تھے۔ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے ناظم آباد فائر اسٹیشن کو شہید فرقان کے نام سے منسوب کرنے، بیوہ کو ملازمت اور بچوں کی تعلیم کے اخراجات اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔
عینی شاہدین اور متاثرہ افراد نے انکشاف کیا کہ عمارت کے 26 میں سے 24 دروازے رات 10 بجے کے بعد بند تھے، جس سے عمارت موت کا جال بن گئی۔ ایمرجنسی اخراج کے راستے بھی موجود نہیں تھے۔
یہ بھی پڑھیے: گل پلازہ میں ہولناک آتشزدگی، قرآن پاک کے نسخے مکمل طور پر محفوظ رہے
ایس بی سی اے کے مطابق گل پلازہ میں غیر قانونی تعمیرات، زائد دکانیں اور گزرگاہوں پر قبضے تھے، جس نے ریسکیو کام کو شدید متاثر کیا۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے 1 کروڑ روپے فی خاندان معاوضے کا اعلان کیا ہے، جبکہ تحقیقات اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔













