کراچی میں بچوں سے زیادتی کے مقدمات میں گرفتار ملزم عمران کو پولیس نے جوڈیشل مجسٹریٹ ایسٹ شاہد علی کی عدالت میں پیش کیا، جہاں عدالت نے تفتیشی افسر کی درخواست پر ملزم کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔
سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کے خلاف 2024 کا مقدمہ زیرِ تفتیش ہے جس کے لیے جسمانی ریمانڈ درکار ہے۔ عدالت کے استفسار پر تفتیشی افسر نے کہا کہ مذکورہ مقدمہ پہلے نامعلوم ملزم کے خلاف درج تھا اور بعد میں اسے اے کلاس قرار دے دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: درجنوں بچوں سے زیادتی کے مرتکب شخص سے متعلق نئے انکشافات سامنے آگئے
عدالت نے اے کلاس رپورٹ طلب کی تو تفتیشی افسر نے مہلت مانگ لی، جس پر عدالت نے ریمانڈ منظور کرتے ہوئے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت جاری کی۔
دوسری جانب، جوڈیشل مجسٹریٹ ساؤتھ عبدالسلیم کلہوڑو کی عدالت میں بھی ملزم عمران کو پیش کیا گیا، جہاں دو مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کی درخواست دی گئی۔ تاہم عدالت نے 2022 کے بچوں سے زیادتی کے مقدمے میں جسمانی ریمانڈ دینے سے انکار کر دیا۔
سماعت کے دوران انسپکٹر شعیب نے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ مقدمے کا تفتیشی افسر کہاں ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ڈیفنس پولیس ملزم کو ایک بار عدالت میں پیش کرکے بعد میں مقدمہ بھول جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: جیکب آباد: خاتون کا پولیس اہلکاروں پر پوتی سے زیادتی کا سنگین الزام، وزیر داخلہ سندھ کا نوٹس
جوڈیشل مجسٹریٹ عبدالسلیم کلہوڑو نے کہا کہ نہ تو 2022 کے مقدمے کی کوئی رپورٹ موجود ہے، نہ پولیس فائل مکمل ہے، اور ایسی صورتحال میں جسمانی ریمانڈ نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ مقدمے کا تفتیشی افسر یا سینئر تفتیشی افسر پیش ہوگا تو ہی ریمانڈ پر غور کیا جائے گا۔














