ہمارے شہر مر رہے ہیں

بدھ 21 جنوری 2026
author image

آصف محمود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ہمارے شہر مر رہے ہیں، ان کا دم گھٹ رہا ہے۔ کیا کسی کو کوئی احساس ہے؟

آپ کسی بھی شہر میں چلے جائیے، آپ کو ہنستی، کھیلتی،  مسکراتی ہوئی زندگی کم ہی ملے گی۔ بے ہنگم طرز زندگی، کھلی نالیاں، ابلتے  گٹر، جا بجا پھیلی گندگی، ہر چیز بے ترتیب۔  دھواں، گردو غبار، آلودگی۔ سڑکوں پر ایک وحشت زدہ ہجوم ہے جو جنون کی کیفیت میں دوڑتا پھر رہا ہے۔ چہروں پر تناؤ ہے، لہجوں میں بے زاری ہے، آنکھوں میں تھکن ہے، سب جلدی میں ہیں، ماتھوں پر تیوری چڑھی ہے۔ چلتے پھرتے آتش فشاں ہیں،  ذرا سی اونچ نیچ ہو جائے تو پھٹ پڑنے کو تیار۔ کیا معاشرہ ایسا ہوتا ہے؟ کیا شہر ایسے ہوتے ہیں؟

راولپنڈی سے اسلام آباد داخل ہوں تو محسوس ہوتا ہے دنیا ہی اور ہے، اسلام آباد میں اپنے رہائشی سیکٹر پہنچوں تو احساس ہوتا ہے کہ دنیا مزید اور ہو گئی  ہے۔ ٹھہری ہوئی، خاموش، صاف شفاف۔ ایسی سکینت میں لپٹی کہ چڑیاں بھی شوخی میں آ جائیں تو شور سا محسوس ہونے لگے۔ سوال یہ ہے کہ اسلام آباد جیسی زندگی کیا باقی شہروں کے رہنے والوں کا حق نہیں؟

یہ بھی پڑھیں: یہ اظہارِ رائے نہیں، یہ سائبر وار ہے

بجا کہ ہر شہر کی صورت حال الگ ہے۔ درست کہ ہر شہر اسلام آباد نہیں بن سکتا۔ محل وقوع ، رقبے اور آبادی سمیت بہت سارا فرق ہے۔ لیکن کیا کچھ بنیادی سہولیات بھی نہیں دی جا سکتیں؟

دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے چند بڑے شہروں کو چھوڑ کر کتنے ایسے شہر ہیں جہاں ڈھنگ کا کوئی ایسا  فیملی پارک موجود ہو جہاں بہنیں، بیٹیاں اور مائیں اس تسلی کے ساتھ جا سکیں کہ آگے اوباشوں کی ٹولیاں نہیں بیٹھی ہوں گی؟

کسی شہر کی سبزی منڈی چلے جائیے، سب سے زیادہ تعفن یہاں ہو گا۔ حتیٰ کہ کسی دن  اسلام آباد کی سبزی منڈی جا کر دیکھ لیجیے۔ گھن آتی ہے۔  باقاعدہ ابکائیاں آتی ہیں۔

کسی شہر کی گلیوں میں سے گزر کر دیکھ لیجیے ، گٹر ابل رہے ہوں گے اور جا بجا گندگی کے ڈھیر پڑے ہوں گے۔ لوگ گھر کو صاف کرتے ہیں اور گندگی گلی میں پھینک دیتے ہیں۔ کروڑوں روپے کی گاڑیاں سڑکوں سے گزرتی ہیں اور ریپر اور بوتلیں سڑک پر پھینک دی جاتی ہیں۔

چند ماہ پہلے سرگودھا گیا تو شہر پہچانا نہیں گیا۔ فیصل آباد روڈ پر جس نہر کے کنارے غلاظت کے پہاڑ پڑے ہوتے تھے وہاں اب پھول لگے ہوئے تھے۔ صاف ستھرا پنجاب مہم اپنا آپ منوا رہی تھی۔ میں غیر یقینی کے عالم میں اس منظر کو دیکھ ہی رہا تھا کہ ایک خاتون کوڑے کی بالٹی لائیں اور پھولوں کی کیاری کے کچھ ساتھ ا ور کچھ اوپر پھینک پر واپس چلی گئیں۔

مزید پڑھیے: وزیر اعلیٰ ہو تو سہیل آفریدی جیسا

 گاؤں کے رستے میں ایک نہر پڑتی تھی۔ کناروں پر باغات تھے، باغات میں بلبلیں چہکتی تھیں اور نہر کنارے درختوں پر گرمیں کی دوپہروں میں فاختہ سر بکھیر رہی ہوتی تھی۔ سالوں بعد جانا ہوا تو دیکھا نہر کنارے گھر بن چکے ہیں اور گھروں کا سیوریج سیدھا نہر میں پھینکا جا رہا ہے۔ گاؤں والوں کو کوئی کیا سمجھائے یہاں تو قائد اعظم یونیورسٹی، بنی گالہ اور شاید پارلیمان، سپریم کورٹ اور ڈپلومیٹک انکلیو کا سیوریج بھی سیدھا راول جھیل میں جاتا ہے۔ جھیل کے کنارے پیمپروں اور غلاظت سے بھرے ہوتے ہیں اور یہاں سے راولپنڈی شہر کو پینے کے لیے پانی سپلائی ہوتا ہے۔ مارگلہ سے اترتی صاف پانی کی ندیوں میں شہر کی غلاظت شامل ہو جاتی ہے۔

ہم زندہ اور پائندہ قوم ضرور ہیں لیکن سماجیات کا بنیادی شعور ہی نہیں۔ ایک خواہش برسوں سے دیوار دل سے لپٹی بیٹھی ہے کہ کوئی آئےا ور نصاب میں سماجیات کو لازمی مضمون کے طور پر متعارف کروا دے۔ دن رات ٹی وی چینلز صوتی آلودگی پھیلا رہے ہیں، مجال ہے کوئی ڈھنگ کا پبلک سروس میسج ہی کبھی نشر کر دیا کریں۔ سیاست، سیاست اور سیاست۔ بس یہی ہماری زندگی کی چاند ماری کا حاصل ہے۔ سماج کا کوئی موضوع تو ہمیں جچتا ہی نہیں۔

سڑکوں پر چلنا محال ہو چکا ہے۔ کسی شہر میں جا کر دیکھ لیجیے، مرکزی شاہراہوں کے اطراف میں دکانیں بنتی ہیں، آدھی سڑک پر پارکنگ ہو جاتی ہے اور باقی سڑک پر سارا ددن خلق خدا ذلیل ہوتی ہے۔ ہم آج تک یہ بات نہیں سمجھ سکے کہ بازاروں کو مرکزی سڑکوں پر نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ا ن سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے۔

ہمیں اچھی پبلک ٹرانسپورٹ کی طرف بڑھنے کی ضرورت ہے۔ یہاں میلوں گاڑیوں کی لائنیں لگی ہوتی ہیں اور اندر ایک ایک بندہ بیٹھا ہوتا ہے۔ اچھی پبلک ٹرانسپورٹ ہو تو 50 کاروں کی بجائے سڑک پر ایک بس کافی ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: جنریشن زی سوال ہی تو نہیں اٹھاتی

شہروں میں کچھ تو صفائی، ترتیب، تنظیم اور روانی ہو۔ کچھ باغات ہوں، چند  پارک ہوں۔  کھیلنے کے کچھ گراؤنڈ ہوں، کچھ ڈھنگ کی لائبریریاں ہوں۔ کوئی ثقافتی مرکز ہو جہاں شرکا کے لیے دولت اور تجوری کے سائز کی بجائے شہریت کی کوالیفیکیشن کافی ہو۔
ہمارے شہر غلاظت، کوڑے، تعفن اور بد نظمی کے ہاتھوں مر رہے ہیں۔ کیا ہم انہیں بچا پائیں گے یا ہم نے صرف سیاست پر لمبی لمبی بحثیں کرتے کرتے مر جانے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔

وزیر اعظم صاحب، کیا آپ سن رہے ہیں؟

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مری میں برفباری، ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے متحرک

صدر مملکت نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرلیا

مراد علی شاہ نے خط لکھ کر کراچی میں گرین لائن منصوبہ رکوایا، مصطفیٰ کمال

ووٹر کی عمر 18 سے بڑھا کر 25 سال کرنے سے متعلق خبروں میں کوئی صداقت نہیں، احسن اقبال

صدر مملکت آصف علی زرداری سے اردن کے لیے نامزد سفیر میجر جنرل (ر) خرم سرفراز خان کی ملاقات

ویڈیو

’میں روز گل پلازہ کے اندر موجود اپنے پوتے کے لیے یہاں آکر بیٹھ جاتی ہوں‘، بزرگ خاتون غم سے نڈھال

شریف خاندان کی شاہی شادی، ڈمی رانا ثنا اللہ کی خصوصی گفتگو

میڈیا چینلز میں عشق عمران میں کون مبتلا؟ گل پلازہ میں چوریاں، پاکستان غزہ امن بورڈ کا حصہ بن گیا

کالم / تجزیہ

گل پلازہ کی آگ سے بننے والے دائرے

محمود خان اچکزئی نئے اپوزیشن لیڈر، نیا میثاق جمہوریت ہو گا؟

’میرے پاس کالا کوٹ نہیں تھا‘