گل پلازہ میں لگنے والی آگ کو محض ایک اور ’حادثہ‘، ’شارٹ سرکٹ‘ یا حسبِ روایت ’اللہ کی مرضی‘ کہہ کر فائل بند کردینا آسان ضرور ہے، مگر یہ دراصل سچ سے فرار کے مترادف ہے۔ یہ سانحہ نہ کراچی کے خلاف پوائنٹ اسکورنگ ہے، نہ سندھ کو بدنام کرنے کی کوئی سازش بلکہ یہ پورے پاکستان کے لیے ایک سنجیدہ اور کھلا سوالیہ نشان ہے، جو ہمارے نظام، اداروں اور اجتماعی خاموشی پر چسپاں ہو چکا ہے۔
پاکستان میں آتشزدگی کے واقعات اب محض اتفاق نہیں رہے، بلکہ ایک مستقل پیٹرن اختیار کرچکے ہیں۔ کہیں کمرشل پلازہ جلتا ہے، کہیں فیکٹری، کہیں گودام اور کہیں جنگلات۔ حیرت انگیز طور پر تقریباً ہر واقعے کے بعد سرکاری بیانیہ ایک ہی ہوتا ہے:
’آگ حادثاتی تھی۔‘
سوال یہ ہے کہ اگر یہ واقعی حادثات ہیں تو پھر یہ حادثے مخصوص عمارتوں، مخصوص حالات اور مخصوص مفادات کے گرد ہی کیوں گھومتے ہیں؟
گل پلازہ جیسے کمرشل مراکز میں آگ لگنے کے بعد کئی بنیادی سوال خود بخود جنم لیتے ہیں:
کیا یہ عمارت فائر سیفٹی قوانین پر پوری اترتی تھی؟
کیا ایمرجنسی ایگزٹس، فائر الارم اور اسپرنکلر سسٹم نصب تھے؟
اگر نہیں تھے تو این او سی کس نے جاری کیا؟
کن افسران اور انسپکٹرز نے آنکھیں بند کر کے فائلیں کلیئر کیں؟
اصل سوال صرف یہ نہیں کہ کوتاہی ہوئی، بلکہ یہ ہے کہ کوتاہی کے پیچھے کون سا نظام، کون سی خاموشی اور کون سے مفادات کارفرما تھے۔ ان انسپکٹرز کے اثاثے، طرزِ زندگی اور بینک بیلنس کیا کہانی سناتے ہیں؟ بدقسمتی سے، یہ وہ سوالات ہیں جن سے ہمارے ادارے ہمیشہ نظریں چرا لیتے ہیں۔
پاکستان میں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹیز کو محض کمزور کہنا حقیقت کو نرم الفاظ میں بیان کرنا ہوگا۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ ادارے اکثر مفادات کی نذر ہو چکے ہیں۔ قوانین موجود ہیں، مگر عملدرآمد صرف کاغذوں تک محدود ہے۔
فائر سیفٹی سرٹیفکیٹس رشوت کے عوض جاری ہوتے ہیں، غیر قانونی فلورز کو ’ریگولرائز‘ کر دیا جاتا ہے، اور انسپکٹرز کروڑوں کماتے ہیں جبکہ شہری اپنی جانوں سے قیمت ادا کرتے ہیں۔
یہ بھی ایک کھلا راز ہے کہ بعض آتشزدگیاں انشورنس کلیمز کے لیے ’فائدہ مند‘ ثابت ہوتی ہیں۔ کہیں کرایہ داروں کو نکالنے کے لیے، کہیں پرانی عمارت گرانے یا زمین کی قیمت بڑھانے کے لیے آگ ’حادثاتی طور پر‘ بھڑک اٹھتی ہے۔ مگر ان پہلوؤں پر کبھی سنجیدہ اور غیر جانبدار تفتیش نہیں ہوتی۔
ایسے سنگین واقعات کی تحقیقات صرف مقامی پولیس یا فائر بریگیڈ تک محدود رکھنا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آئی ایس آئی، آئی بی اور دیگر کاؤنٹر انٹیلی جنس ادارے ان آتشزدگیوں کے پس پردہ مالی، انتظامی اور مجرمانہ روابط کی جانچ کریں۔ بلڈنگ کنٹرول، فائر ڈیپارٹمنٹ اور متعلقہ انسپکٹرز کے اثاثوں، طرزِ زندگی اور بیرونِ ملک سرمایہ کاری کی مکمل چھان بین ہو۔ انشورنس کمپنیوں اور عمارت مالکان کے درمیان مشکوک کلیمز اور معاہدوں کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں۔ عدالتی نگرانی میں ایک آزاد جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے جو محض رپورٹ دینے پر اکتفا نہ کرے بلکہ ذمہ داروں کے تعین تک جائے۔
جب ہر آگ کو ’حادثہ‘ کہہ کر دفن کر دیا جاتا ہے تو صرف فائلیں نہیں دفن ہوتیں، انصاف، انسانی جانوں کی قدر اور ریاستی ساکھ بھی راکھ ہو جاتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ آگ کیسے لگی، اصل سوال یہ ہے کہ ہم سچ جاننا کیوں نہیں چاہتے؟ گل پلازہ کی آتشزدگی ہمیں یہ یاد دہانی کراتی ہے کہ اگر آج ہم نے اسے محض ایک اور واقعہ سمجھ کر نظرانداز کر دیا تو کل یہی آگ کسی اور شہر، کسی اور پلازہ اور کسی اور انسانی المیے کی صورت میں ہمارے دروازے پر دستک دے گی۔
یہ کراچی کا مسئلہ نہیں، یہ سندھ کا مسئلہ نہیں یہ پاکستان کے نظام کا جلتا ہوا چہرہ ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














