وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے کا سالانہ بجٹ تقریباً ایک ہزار ارب روپے پر مشتمل ہے، تاہم اس کا قریب 80 فیصد حصہ نان ڈیولپمنٹ اخراجات کی نذر ہو جاتا ہے، جس کے باعث عوامی فلاح و ترقی کے لیے محدود وسائل دستیاب رہ جاتے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ نان ڈیولپمنٹ بجٹ کا بڑا حصہ صوبے کے تقریباً ڈھائی لاکھ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی پر خرچ ہو جاتا ہے، جبکہ صوبے کی 1 کروڑ 30 لاکھ آبادی کی فلاح و بہبود کے لیے محض 200 ارب روپے دستیاب ہوتے ہیں۔
بلوچستان کا تقریباً ایک ہزار ارب روپے کا سالانہ بجٹ ایک تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے، جس میں قریب 80 فیصد نان ڈیولپمنٹ اخراجات کی نذر ہو جاتا ہے “یعنی ڈھائی لاکھ کے لگ بھگ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن” جبکہ محض 200 ارب روپے صوبے کی 1.3 کروڑ عوام کی فلاح و ترقی کے لیے…
— Sarfraz Bugti (@PakSarfrazbugti) January 21, 2026
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ اس غیر متوازن مالی نظام کو درست کرنے کے لیے گزشتہ 2 برسوں کے دوران متعدد متروک اور غیر مؤثر سرکاری دفاتر بند کیے گئے۔ ان کے مطابق زکوٰۃ، مذہبی امور اور سول ڈیفنس جیسے غیر فعال محکمے ختم کر کے تقریباً 8 ہزار غیر ضروری سرکاری آسامیاں بھی ختم کی گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ غیر حاضر سرکاری ملازمین کے خلاف بلا امتیاز سخت کارروائی عمل میں لائی گئی تاکہ سرکاری نظام کو مؤثر اور شفاف بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے ترقی عمارتوں سے نہیں، خدمات سے ناپی جائے گی، وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی
وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ اصلاحات کا سفر ابھی مکمل نہیں ہوا، تاہم کسی بھی قسم کا دباؤ، احتجاج یا بلیک میلنگ حکومت کو عوام کے حق کے تحفظ سے نہیں روک سکتی۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے عوام کے مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور اصلاحات کا عمل ہر صورت جاری رہے گا۔














