گزشتہ سال مقامی موبائل اسمبلنگ کی شرح کم کیوں رہی، کون سا موبائل زیادہ اسمبل ہوا؟

بدھ 21 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں مقامی موبائل فون کی تیاری اور اسمبلنگ کے شعبے میں دسمبر 2025 کے دوران سست روی دیکھی گئی ہے۔

 پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس کمی کی بڑی وجہ صارفین کی جانب سے مقامی موبائل کی طلب میں کمی اور موبائل فونز کے طویل ری پلیسمنٹ سائیکل ہیں، جو عالمی رجحانات کے مطابق بڑھ کر 40 ماہ تک پہنچ چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: موبائل فون صارفین کے لیے اچھی خبر لیکن مقامی صنعت مشکل سے دوچار

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے تجزیہ کاروں کے مطابق 2025 کے کیلنڈر سال کے دوران مقامی سطح پر 30.21 ملین موبائل فون اسمبل کیے گئے، جو گزشتہ سال کے 31.38 ملین یونٹس کے مقابلے میں 4 فیصد کمی ظاہر کرتے ہیں۔

اعداد و شمار کا جائزہ لینے سے سال کے اختتام پر معمولی بہتری بھی سامنے آئی۔ دسمبر میں مقامی کمپنیوں نے 2.61 ملین موبائل فون تیار یا اسمبل کیے، جو نومبر کے مقابلے میں 5 فیصد زیادہ تھے، تاہم دسمبر 2024 میں تیار ہونے والے 2.95 ملین یونٹس کے مقابلے میں یہ تعداد 12 فیصد کم رہی۔

پیداوار میں کمی کے باوجود پاکستان میں موبائل فونز کی مقامی تیاری ملکی طلب پوری کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتی رہی۔ 2025 میں استعمال ہونے والے موبائل فونز میں سے 93 فیصد مقامی طور پر اسمبل کیے گئے، جو 2024 میں 95 فیصد کے قریب تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں موبائل فون کی درآمدات میں 40 فیصد سے زائد اضافہ

سال کے دوران اسمبل کیے گئے 30.21 ملین یونٹس میں سے 15.64 ملین یعنی 52 فیصد اسمارٹ فونز تھے، جبکہ 14.57 ملین یعنی 48 فیصد 2G فونز پر مشتمل تھے۔

برانڈز کے لحاظ سے جنوری سے دسمبر 2025 کے دوران انفینکس 3.65 ملین یونٹس کے ساتھ سب سے بڑا مقامی اسمبلڈ برانڈ رہا۔ اس کے بعد وی جی او ٹییل 3.57 ملین، ویوو 2.80 ملین اور آئٹیل 2.34 ملین یونٹس کے ساتھ نمایاں رہے۔

دیگر اہم برانڈز میں سام سنگ 1.85 ملین، ٹیکنو 1.84 ملین، شیاؤمی 1.38 ملین، کیو موبائل 1.11 ملین، ریئل می 1.06 ملین اور اوپو 1.01 ملین یونٹس شامل ہیں۔

آئندہ کے حوالے سے ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے تجزیہ کار مقامی موبائل فون مینوفیکچرنگ اور اسمبلنگ کے شعبے کے مستقبل کے بارے میں پرامید ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’ وی وو‘ کمپنی پاکستان میں موبائل مینوفیکچرنگ کے لیے تیار، معاہدہ طے پاگیا

 ان کے مطابق اگلے 12 ماہ کے دوران اس شعبے میں 7 سے 8 فیصد سالانہ بنیادوں پر اضافہ متوقع ہے، جس کی وجوہات میں روپے کا نسبتاً استحکام، مہنگائی میں کمی اور صارفین کی خریداری کی صلاحیت میں بتدریج بہتری شامل ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی: امریکا اسے کیسے نافذ کر سکتا ہے؟

ایران امریکا مذاکرات کی بحالی کا امکان، عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئی

اسلام آباد میں کیا دیکھوں اور فارغ وقت کہاں گزاروں؟ امریکی صحافی نے پاکستانیوں سے تجاویز مانگ لیں

مالی سال 2026 میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.6 فیصد رہنے کی توقع، آئی ایم ایف

حد سے زیادہ دعوے، کمزور نتائج: نیتن یاہو کو جنگ بندی پر شدید ردِعمل کا سامنا

ویڈیو

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

پاکستان کی ثالثی نے دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹ کو بچا لیا

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا کرسکتا ہے؟

کالم / تجزیہ

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا