نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان استحکام حاصل کرچکا ہے، اب اگلی منزل صرف ترقی ہے۔
بدھ کے روز نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے دوران پاکستان پویلین میں پاکستان بریک فاسٹ میں شرکت کی، اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اب استحکام حاصل کرچکا ہے، اب اگلی منزل صرف ترقی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کی ڈیووس عالمی فورم میں شرکت، پاکستانی مؤقف اجاگر کرنے کا موقع
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اب سفارتی تنہائی سے مکمل طور پر باہر نکل چکا ہے، ہمارے معاشی اعشاریے بہت تسلی بخش ہیں، مہنگائی کی شرح 30 فیصد سے کم ہو کر 5.5 فیصد پر آ گئی ہے، پالیسی ریٹ 22.5 فیصد سے کم ہو کر 10.5 فیصد پر آ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری آئی ٹی برآمدات تسلی بخش رفتار سے ترقی کر رہی ہیں، اگرچہ ہماری مجموعی برآمدات مختلف قسم کے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہیں تاہم آگے کا راستہ واضح ہے کہ پاکستان کو برآمدات پر مبنی ترقی حاصل کرنی ہے۔
اس موقع پر وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ملکی معیشت درست سمت میں گامزن ہے، عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی درجہ بندی بہتر کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ڈیووس میں پاکستان پویلین کا افتتاح کر دیا
وزیرخزانہ نے کہا کہ چاہے ٹیکس اصلاحات ہوں یا ٹیکنالوجی، اقتصادی اصلاحات اب صرف ڈیزائن نہیں بلکہ عملی نفاذ کے مرحلے میں ہیں، ڈیٹا بیسز کو مربوط کرنے میں بھی ہم نے پیش رفت کی ہے۔
’مالی استحکام کا اعلان کرنے سے پہلے کچھ فاصلہ طے کرنا باقی ہے‘
انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیکس ٹو جی ڈی پی اب ڈبل ڈیجٹ میں پہنچ چکی ہے، تاہم مالی استحکام کا اعلان کرنے سے پہلے کچھ فاصلہ طے کرنا باقی ہے، ہم ٹیکس فری شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لا کر ٹیکس نیٹ کو وسعت دے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بجلی کے شعبے میں اصلاحات کی ہیں، ہم نے سرکلر ڈیٹ کم کیا ہے اور گورننس میں بہتری لائی ہے، ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے بورڈ اب زیادہ تر پرائیویٹ افراد پر مشتمل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ٹوکنائزیشن، وزیر خزانہ کی عالمی وفد سے ملاقات
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ریاستی ملکیتی اداروں کی اصلاحات انتہائی اہم ہیں، ہم ہر سال تقریباً ایک ہزار ارب روپے ان اداروں پر ضائع کر دیتے ہیں، اس لیے ہم نے 24 سرکاری ادارے نجکاری کمیشن کے حوالے کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں بعد قومی ایئرلائن کو پرائیویٹائزڈ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، یہ اداروں کی نجکاری کے لیے بہت بڑی مثبت پیش رفت ہے، یہ ہمارا نقطہ آغاز ہے، مقامی سرمایہ کاروں کو اعتماد دینا ہوگا کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں۔













