امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مسلسل ٹیرف دھمکیوں اور گرین لینڈ کی ملکیت حاصل کرنے کی کوششوں کے بعد یورپی پارلیمان نے اہم فیصلہ کرلیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپی پارلیمان نے اعلان کیا ہے کہ وہ یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی معاہدے پر کام کو وقتی طور پر معطل کردے گی۔
مزید پڑھیں: گرین لینڈ کا تنازع: یورپی یونین کی امریکی محصولات کے جواب میں سخت تجارتی اقدامات کی تیاری
پارلیمانی ارکان نے کہاکہ معاہدہ غیر متوازن ہے اور اس سے یورپی یونین کا نقصان اور امریکا کو فائدہ پہنچے گا۔
ارکان کے مطابق اس معاہدے کے تحت یورپ کو زیادہ تر درآمدی اشیا پر محصولات کم کرنے پڑیں گے جبکہ امریکا اپنے 15 فیصد محصولات میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا۔
یاد رہے کہ قبل ازیں یورپی پارلیمان کے کچھ ارکان نے مشروط طور پر اس معاہدے کو قبول کرنے کی تیاری ظاہر کی تھی، جس میں 18 ماہ کی اختتامی مدت اور امریکی درآمدات میں ممکنہ اضافے کے جواب میں حفاظتی اقدامات شامل تھے۔
تجارتی کمیٹی نے منصوبہ بنایا تھا کہ 26 اور 27 جنوری کو اس معاہدے پر ووٹ ہوگا، تاہم اب یہ عمل مؤخر کر دیا گیا ہے۔ برنڈ لانگے نے کہا کہ امریکی محصولات کی نئی دھمکیوں کی وجہ سے پہلے سے طے شدہ معاہدے پر عملدرآمد متاثر ہوا اور اسی لیے اس عمل کو مزید نوٹس تک معطل کر دیا گیا ہے۔
معاہدے کی معطلی کے نتیجے میں امریکی صدر کی ناراضی کا خدشہ ہے، جس سے امریکا یورپی درآمدات پر مزید محصولات عائد کر سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: یورپ سیدھے راستے پر نہیں چل رہا، گرین لینڈ کے معاملے پر انکار کیا تو یاد رکھوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ
ٹرمپ انتظامیہ نے یہ بھی واضح کیا کہ شراب یا اسٹیل پر محصولات میں چھوٹ صرف اس وقت ممکن ہوگی جب معاہدہ مکمل طور پر نافذ ہو جائے۔













