کراچی کے قدیم جزیرے منوڑہ پر واقع صالح آباد ماہی گیروں کی قدیم ترین بستیوں میں سے ایک ہے جہاں کے رہائشیوں کی زندگی سمندر سے وابستہ ہے لیکن حالیہ برسوں میں ان کو جن مسائل کا سامنا ہے وہ نہ صرف ان کے معاش بلکہ ان کی بقا کے لیے بھی خطرہ بن چکے ہیں۔
بڑے ٹرالرز کا سمندر میں جھاڑو پھیرنا،غریب ماہی گیروں کا معاشی استحصال
صالح آباد کے ماہی گیروں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بڑے ڈیپ سی ٹرالرز ممنوعہ جالوں کا استعمال کرتے ہوئے سمندر کی تہہ تک سے مچھلیوں کا صفایا کر دیتے ہیں جس سے صالح آباد کے چھوٹے ماہی گیروں کے ہاتھ کچھ نہیں لگتا۔
مزید برآں کشتیوں میں استعمال ہونے والے ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے نے مچھلی پکڑنے کی لاگت کو اتنا بڑھا دیا ہے کہ اکثر ماہی گیر نقصان کے ساتھ واپس لوٹتے ہیں۔
جزیرے پر واقع صالح آباد کے مکین بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور یہاں پینے کے میٹھے پانی کی بھی شدید قلت ہے۔
لوگوں کو پینے کے پانی کے لیے ٹینکرز پر انحصار کرنا پڑتا ہے جو کہ انتہائی مہنگے پڑتے ہیں۔
یہاں کوئی بڑا اسپتال بھی نہیں ہے اور مریضوں کو کشتی کے ذریعے کیماڑی اور پھر وہاں سے شہر کے اسپتالوں تک لے جانا پڑتا ہے جس دوران قیمتی جانیں ضائع بھی ہوجاتی ہیں۔
سمندر میں زہر گھولتا آلودہ پانی
کراچی کے ساحل پر بڑھتی ہوئی آلودگی کا براہ راست اثر صالح آباد پر پڑ رہا ہے۔ کیماڑی اور پورٹ قاسم سے نکلنے والا زہریلا پانی جزیرے کے گرد سمندری حیات کو ختم کر رہا ہے۔
سیاحت کے فروغ کے نام پر بعض اوقات مقامی ماہی گیروں کی نقل و حرکت اور ان کی کشتیوں کی پارکنگ (برتھنگ) کی جگہوں کو محدود کر دیا جاتا ہے۔
ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے مقامی آبادی کو یہ ڈر رہتا ہے کہ انہیں ان کے آبائی گھروں سے ہی بے دخل کر کے یہاں ہوٹل یا کمرشل عمارتیں نہ بنا دی جائیں۔
غیر محفوظ کشتیوں پر نقل و حرکت
صالح آباد سے کیماڑی تک کا سفر کشتیوں کے ذریعے ہوتا ہے اور نقل و حمل کے لیے استعمال ہونے والی یہ کشتیاں اکثر پرانی اور غیر محفوظ ہوتی ہیں۔
کیماڑی اور منوڑہ کی جیٹیز کی حالت بھی ابتر ہے جس کی وجہ سے بزرگوں، بچوں اور مریضوں کو کشتی میں سوار ہونے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔













