ایران میں ملک گیر احتجاج کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کے بعد حکومت نے بدھ کے روز پہلی مرتبہ ہلاکتوں کے سرکاری اعداد و شمار جاری کیے ہیں، جو بیرونِ ملک انسانی حقوق کے کارکنوں کے دعوؤں سے خاصے کم ہیں۔
ایرانی سرکاری ٹیلی وژن پر وزارتِ داخلہ اور فاؤنڈیشن آف مارٹرز اینڈ ویٹرنز افیئرز کے بیانات نشر کیے گئے، جو جنگوں میں ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں کو سہولیات فراہم کرنے والا سرکاری ادارہ ہے۔ ان بیانات کے مطابق احتجاجی مظاہروں کے دوران 3 ہزار 117 افراد ہلاک ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے: ایران میں مظاہرے، ہلاکتوں کی تعداد 500 سے تجاوز کر گئی
سرکاری بیان میں مزید کہا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں سے 2 ہزار 427 افراد عام شہری اور سیکیورٹی فورسز کے اہلکار تھے، تاہم باقی ہلاکتوں کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔
دوسری جانب امریکا میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی نے جمعرات کی صبح بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 4 ہزار 902 ہو چکی ہے، جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: مظاہروں کی آڑ میں بیرونی مداخلت ناقابلِ قبول، ایرانی فوج اور آئینی کونسل کا دوٹوک مؤقف
انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق وہ ایران کے اندر موجود کارکنوں کے نیٹ ورک کے ذریعے تمام ہلاکتوں کی تصدیق کرتی ہے، اور ماضی میں ایران میں ہونے والے مظاہروں اور بدامنی کے واقعات پر اس کے اعداد و شمار درست ثابت ہوتے رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی حکام نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معطل یا محدود کر رکھی ہے اور بین الاقوامی کالز بھی بند ہیں، جس کے باعث بیرونِ ملک سے ہلاکتوں کا درست اندازہ لگانا مشکل ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ مقامی صحافیوں کی رپورٹنگ پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: مظاہروں کے دوران امریکا ایران کیخلاف فوجی اقدامات پر غور کررہا ہے، سی این این کا دعویٰ
سرکاری میڈیا بار بار مظاہرین کو ‘فسادی’ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کر رہا ہے کہ وہ امریکا اور اسرائیل کے اشاروں پر کام کر رہے ہیں، تاہم ان الزامات کے حق میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
یہ ہلاکتیں ایران میں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ہونے والے کسی بھی احتجاج یا بدامنی سے کہیں زیادہ ہیں اور 1979 کے اسلامی انقلاب کے دوران پیدا ہونے والی افراتفری کی یاد دلاتی ہیں۔
اگرچہ گزشتہ چند دنوں سے ملک میں کوئی بڑا احتجاج رپورٹ نہیں ہوا، تاہم خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جیسے جیسے مزید معلومات سامنے آئیں گی، ہلاکتوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔














