لاہور ایک بار پھر دنیا کا سب سے آلودہ شہر قرار دے دیا گیا ہے، جہاں فضائی آلودگی کی سطح ‘انتہائی خطرناک’ حد تک پہنچ چکی ہے۔ یہ انکشاف عالمی فضائی معیار کی نگرانی کرنے والے ادارے آئی کیو ایئر کی تازہ رپورٹ میں سامنے آیا ہے۔
آئی کیو ایئر کے لائیو ٹریکر کے مطابق بدھ کی صبح لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر رہا، جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس 452 ریکارڈ کیا گیا۔ اسی فہرست میں کراچی نویں نمبر پر رہا، جہاں 179 تھا۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب اور خیبر پختونخوا میں شدید دھند، شہری فضا انتہائی آلودہ
21 جنوری کو بھی لاہور مسلسل دنیا کے سب سے آلودہ شہر کے طور پر فہرست میں سرفہرست رہا۔ اس سے ایک روز قبل، منگل کو آئی کیو ایئر نے پاکستان کے لیے فضائی آلودگی کا الرٹ جاری کیا تھا، جس میں بتایا گیا کہ بڑے شہروں میں فضائی معیار ‘غیر صحت بخش’ سے لے کر ‘انتہائی خطرناک’ سطح تک پہنچ چکا ہے، جو بالخصوص بچوں اور بزرگوں کے لیے شدید صحت کے خطرات پیدا کر رہا ہے۔
منگل کے روز لاہور میں اے کیو آئی 507 تک جا پہنچا، جو خطرناک حد (301 سے زائد) سے کہیں زیادہ ہے، جبکہ کراچی اس دن بھی فہرست میں چھٹے نمبر پر رہا اور وہاں اے کیو آئی 178 ریکارڈ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: لاہور ایک بار پھر دنیا کا آلودہ ترین شہر قرار
آئی کیو ایئر کی جانب سے جاری الرٹ میں شہریوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں، گھروں کی کھڑکیاں بند رکھیں، باہر جاتے وقت ماسک کا استعمال کریں اور گھروں کے اندر ایئر پیوریفائر استعمال کریں۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران فضائی آلودگی پاکستان کے لیے ایک سنگین عوامی صحت اور ماحولیاتی بحران بن چکی ہے۔ ملک کے مختلف شہروں، بالخصوص لاہور، کو ہر سال سردیوں کے موسم میں شدید اسموگ کا سامنا رہتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی بڑی وجوہات صنعتی اخراج، گاڑیوں کا دھواں، فصلوں کی باقیات جلانا اور ہوا کی کم رفتار ہیں۔














