گل پلازہ کی آگ سے بننے والے دائرے

جمعرات 22 جنوری 2026
author image

خرم شہزاد

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خبر کا ایک دائرہ ہوتا ہے۔ کسی خبر کا چھوٹا اور کسی کا بڑا، اور کسی کا دائرہ در دائرہ۔

خبروں کے اس کاروبار میں ہر خبر کو اس کی اہمیت کے مطابق دیکھنے اور جگہ دینے کے لیے اس کو پرکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دائرے کے اندر رہتے ہوئے اور کبھی دائرے کے باہر سے دیکھتے ہوئے۔

کچھ خبریں ابھرتی ہیں، چھوٹا سا دائرہ بناتی ہیں اور تحلیل ہوجاتی ہیں۔ کچھ کا دائرہ تھوڑا سا بڑا ہوتا ہے، وہ ذرا زیادہ دیر تک گردش کرتی رہتی ہیں اور کچھ پھر دائرہ در دائرہ، ایک دائرے سے نکلتی ہیں، تو دوسرے، پھر تیسرے اور پھر کسی اور مدار میں۔

کراچی سے آگ لگنے اور عمارتیں گرنے کی خبریں وقتاً فوقتاً آتی رہتی ہیں۔ ان کے دائروں کو جانچنا ہوتا ہے اور پھر فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کس کا مدار کتنا ہے۔

گزشتہ ہفتے گل پلازہ میں آگ لگنے کی خبر آئی تو ابتدا میں یہ انہی درجنوں خبروں کی طرح لگی جو معمولی شارٹ سرکٹ کی اطلاع کے بعد پھر آگ کی طرح بجھ جاتی ہیں۔

لیکن چند گھنٹوں بعد اندازہ ہوا کہ اس خبر کا مدار بڑا ہے، اس آگ کے شعلے بڑھ رہے ہیں اور ان شعلوں کی خبر کو بھی اسی تناسب سے بڑے دائروں میں دیکھنا پڑے گا۔

توقع تھی کہ دائرے مدار نہیں بدلیں گے، اگلے روز تک شعلے بجھ جائیں گے اور گل پلازہ کی آگ کی خبر بھی چند دائروں میں سفر کے بعد تحلیل ہوجائے گی۔

مگر آگ اگلے روز بھی نہیں بجھی، پھر امید کی کرن تیسرے روز پر چلی گئی، تیسرے روز شعلے تو کچھ مدہم ہوئے لیکن ان سے نکلنے والی تپش سامنے آنے والی ہر تفصیل کے ساتھ بڑھتی گئی۔

کچھ پرانے زخم، پاکستان بھر میں بنائی گئی غیر قانونی بے ہنگم اور بھدی عمارتیں جہاں آگ بھجانے کا سسٹم تو درکنار پارکنگ تک نہیں ہوتی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی لمبی تان کر سونے والی نیند جو سات دہائیوں بعد بھی پوری نہیں ہورہی، اور کراچی کا گورننس سسٹم جو سیاسی جماعتوں کی خود غرضی اور لے دے میں اس طرح قطرہ قطرہ پگھلتا جارہا ہے جس طرح گل پلازہ میں لگا سریا آگ کی تپش سے پگھلا۔

اب بات 18ویں ترمیم اور اس کے بعد اضلاع اور یونین کونسلوں کو اختیارات کی منتقلی اور پھر آگ لگنے سے چند ہی روز پہلے ایوان صدر میں کی گئی بلاول بھٹو کی لچھے دار تقریر تک آگئی ہے جس میں انہوں نے سندھ حکومت کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملائے تھے اور اپنے منہ میاں مٹھو بننے کی کوشش کی تھی۔

دائرے رک نہیں رہے، بڑھتے جا رہے ہیں، گل پلازہ میں خریداری کے لیے گئے بدقسمت خریداروں اور بچوں کے مستقبل کے لیے روپیہ روپیہ جوڑتے دکانداروں کی ہر کہانی ایک نیا دائرہ جنم دے رہی ہے۔ ٹوٹی ہڈیوں اور گرے دانتوں کے ڈی این اے کے ممکن ہونے یا نہ ہونے کا دائرہ، شادی سے پہلے اپنے لیے سامان لینے والی نو عمر مسرور دلہن کا دائرہ، اپنی دلہن کے لیے اس کی پسند کا تحفہ لینے جانے والے پر عزم دولہے کا دائرہ اور بچے کی پہلی سالگرہ پر اس کا تحفہ لینے جانے والے جوڑے کا دائرہ۔

تصور کیجیے، اس دکان کے دائرے کو جس میں آگ کے شعلوں کے پھیلتے دائروں سے بچنے کے لیے خود کو محصور کردینے والے کئی لوگوں کی زندگیوں کے دائرے۔ وہ دائرے جو اب جلی ہوئی ہڈیوں اور دانتوں میں سمٹ رہے ہیں۔

گل پلازہ کے باہر اب بھی کئی دائرے گردش کررہے ہیں۔ وہ دائرے جن کے زیلی یا آبائی دائرے ان کے لیے خریداری کرنے گل پلازہ گئے تھے اور پھر وہاں لگنے والی آگ کے دائرے سے باہر نہیں نکل سکے۔

آگ کا دائرہ اب بجھ گیا ہے، راکھ کا ابھی گردش کررہا ہے اور ملبے کا بھی۔ ایک دائرہ اس نقدی اور زیور کا بھی ہے جو دکانوں سے نکلا ہے اور ایک دائرہ ان ہوس میں مبتلا سرکاری اہلکاروں کا بھی ہے جو اس کو سمیٹنے کے درپے ہیں۔

اور سیاسی جماعتوں کے تو دائرے ایسے ہیں جو اپنی ہی طرف پھیلتے چلے جارہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کا دائرہ، ایم کیو ایم کا دائرہ، جماعت اسلامی کا دائرہ، پی ٹی آئی کا دائرہ، بے حس سول سوسائٹی کا دائرہ اور مقتدرہ کا دائرہ۔

دائرے در دائرے اور دائرے در دائرے۔

جب تک یہ دائرے چلتے رہیں گے، گل پلازہ کی آگ کی طرح شارٹ سرکٹ اور عمارتیں گرنے کی خبریں بھی دائرے بناتی رہیں گی، کچھ چھوٹے کچھ بڑے، کچھ اپنے ہی مدار میں اور کچھ مدار در مدار۔

اگر ہمیں ان دائروں اور مداروں سے بچنا ہے تو ہمیں اپنے دائروں سے باہر نکل کر ان دائروں کو توڑنا ہوگا جو صاحبان اختیار اپنے ہی گرد کھینچتے چلے جارہے ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مری میں برفباری، ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے متحرک

صدر مملکت نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرلیا

مراد علی شاہ نے خط لکھ کر کراچی میں گرین لائن منصوبہ رکوایا، مصطفیٰ کمال

ووٹر کی عمر 18 سے بڑھا کر 25 سال کرنے سے متعلق خبروں میں کوئی صداقت نہیں، احسن اقبال

صدر مملکت آصف علی زرداری سے اردن کے لیے نامزد سفیر میجر جنرل (ر) خرم سرفراز خان کی ملاقات

ویڈیو

’میں روز گل پلازہ کے اندر موجود اپنے پوتے کے لیے یہاں آکر بیٹھ جاتی ہوں‘، بزرگ خاتون غم سے نڈھال

شریف خاندان کی شاہی شادی، ڈمی رانا ثنا اللہ کی خصوصی گفتگو

میڈیا چینلز میں عشق عمران میں کون مبتلا؟ گل پلازہ میں چوریاں، پاکستان غزہ امن بورڈ کا حصہ بن گیا

کالم / تجزیہ

محمود خان اچکزئی نئے اپوزیشن لیڈر، نیا میثاق جمہوریت ہو گا؟

ہمارے شہر مر رہے ہیں

’میرے پاس کالا کوٹ نہیں تھا‘