اے آئی کا نیا کمال، میڈیکل طلبہ کی تربیت کے لیے فرضی مریضوں کا استعمال

جمعرات 22 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانیہ میں یونیورسٹیوں اور ایک اسپتال میں زیرِ تعلیم میڈیکل طلبہ کو مریضوں سے بات چیت کی تربیت دینے کے لیے مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی مریضوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی کی تیز رفتار پیش قدمی سے کونسی ملازمتیں خطرے میں؟ بل گیٹس نے بتا دیا

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اس جدید طریقہ تدریس کے ذریعے طلبہ حقیقی انداز کے چہروں اور آوازوں کے حامل اے آئی مریضوں سے گفتگو کی مشق کر سکتے ہیں۔

سوِنڈن کے مرچسٹن سرجری سے وابستہ جنرل پریکٹیشنر ڈاکٹر کرس جیکبز اس ٹیکنالوجی کو گریٹ ویسٹرن اسپتال کے علاوہ برطانیہ کی یونیورسٹی آف برسٹل اور یونیورسٹی آف باتھ میں اپنے طلبہ کے ساتھ استعمال کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر جیکبز کے مطابق طلبہ کو مختلف آپشنز پر مشتمل ایک ڈیٹا بیس دیا جاتا ہے جس کے ذریعے وہ اے آئی مریض سے بات کرتے ہیں اور انہیں حقیقت سے قریب تر جوابات موصول ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم بہتر رابطہ کرنے والے ڈاکٹر تیار کر سکیں تو اس سے مریض بھی خوش ہوں گے اور ڈاکٹر بھی۔

انہوں نے بتایا کہ عام طور پر طلبہ کو ایک دوسرے کے ساتھ پریکٹس کرنی پڑتی ہے یا پھر اداکاروں کے ساتھ مخصوص دنوں میں تربیت کا انتظام کرنا ہوتا ہے تاہم اے آئی اس عمل میں مزید سہولت فراہم کرتی ہے اور طلبہ کو گھر بیٹھے سیکھنے کا موقع بھی دیتی ہے۔

ڈاکٹر جیکبز کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں جذبات، حقیقی مریضوں جیسے ردِعمل اور مختلف پیچیدہ صورتحال شامل کی گئی ہیں جس سے ڈاکٹر، نرسیں اور طلبہ محفوظ ماحول میں جتنی بار چاہیں تربیت حاصل کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھیے: ایلون مسک نے اے آئی کو ’سپر سونک سونامی‘ قرار دے دیا، ان کی وارننگ کیا ہے؟

انہوں نے خبردار کیا کہ مریضوں اور طبی عملے کے درمیان ناقص رابطہ نہ صرف مریضوں کی درست تشخیص میں رکاوٹ بنتا ہے بلکہ اس سے نیشنل ہیلتھ سروس کو مالی نقصان بھی ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ رابطہ سازی، مریض سے مکمل معلومات نہ ملنا اور غلط تشخیص یہ سب مسائل کی جڑ ہیں۔

یہ اے آئی مریض ایک خصوصی نظام سم فلو کے ذریعے تیار کیے جاتے ہیں جو طبی تربیت کے لیے حقیقت سے قریب تر سمیولیشنز تیار کرتا ہے۔

ڈاکٹر جیکبز نے صحت کے شعبے میں اے آئی کے وسیع تر استعمال کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ جدت کو اپنانا ضروری ہے تاہم اس کے نتائج کا باقاعدہ جائزہ لینا بھی اتنا ہی اہم ہے۔

مزید پڑھیں: لاپتا کوہ پیماؤں کی تلاش: اے آئی نے ہفتوں کا کام گھنٹوں میں کردکھایا، جانیں بھی بچ پائیں گی

انہوں نے کہا کہ ہم شواہد کی بنیاد پر کام کر رہے ہیں اور یہ صرف ٹیکنالوجی متعارف کروانے کا معاملہ نہیں بلکہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ آیا یہ واقعی مؤثر ثابت ہو رہی ہے یا نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp