لاہور قلندرز کے بانی اور QALCO کے سربراہ فواد رانا نے اپنے چھوٹے بھائیوں عاطف رانا اور ثمین رانا کے خلاف طویل قانونی جنگ کے بعد تاریخی فتح حاصل کر لی ہے۔ ثالثی ٹریبونل نے فیصلہ دیا کہ فواد رانا کے شیئرز ان کے بھائیوں نے فراڈ کے ذریعے ہتھیائے تھے۔
ٹریبونل کی سربراہی جسٹس (ر) مقبول باقر نے کی، جنہوں نے واضح کیا کہ فواد رانا، ملک میں موجود نہیں تھے جب ان کے بھائیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اپنے حقوق سے دستبرداری پر دستخط کر دیے تھے۔
مزید پڑھیں: لاہور قلندرز کی ایک اور فتح: ’یہ ماننا پڑے گا کہ شاہین کو کپتانی آتی ہے‘
فیصلے کے مطابق، عاطف اور ثمین رانا کے پاس 45 دن کی سخت مہلت ہے، جس میں انہیں یا توQALCO کو 51 فیصد شیئرز واپس کرنا ہوں گے، تاکہ فواد رانا کو مکمل انتظامی کنٹرول مل سکے، یا 2.3 ارب روپے زائد مارک اپ ادا کرنا ہوں گے، جس کی سود سمیت کل رقم قریباً 3 ارب روپے بنتی ہے۔
ٹریبونل نے ایک خفیہ سودا بھی بے نقاب کیا، جس میں بھائیوں نے فواد کی اجازت کے بغیر 30 فیصد شیئرز کسی ’مسٹر نیازی‘ کو 5 ملین ڈالر میں فروخت کیے تھے، جس کا حساب بھی پیش کرنا ہوگا۔
مزید پڑھیں: لاہور کو 3 ٹرافیاں جتوا دیں، اب پاکستان کے لیے کپ جیتنے کی کوشش کروں گا، شاہین آفریدی
کرکٹ مداح فواد رانا کو لاہور قلندرز کا دل سمجھتے ہیں، جنہوں نے ٹیم کا برانڈ اور مشہور پلیئر ڈویلپمنٹ پروگرام قائم کیا، جس سے حارث رؤف جیسے اسٹار کھلاڑی سامنے آئے۔
اگرچہ عاطف اور ثمین رانا اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فتح فواد کو دوبارہ ٹیم کے کنٹرول کی کلید دیتی ہے۔ اب باضابطہ طور پر، لاہور قلندرز کے ’کنگ‘ کا بڑا کم بیک قریب آ چکا ہے۔














