اسپیس ایکس کے سی ای او ایلون مسک نے کہا ہے کہ راپٹر 3 انجن اب تک کا بہترین راکٹ انجن ہے، جس کی بنیاد اس کی بے مثال طاقت، وزن میں کمی اور انتہائی سادہ ڈیزائن پر ہے۔
راپٹر 3 کو 2024 میں متعارف کروایا گیا تھا۔ یہ صرف 1,525 کلوگرام وزن رکھتا ہے، مگر 280 میٹرک ٹن تھرسٹ فراہم کرتا ہے، جو ناسا کے قدیم RS-25 انجن کے مقابلے میں تھرسٹ ٹو ویٹ تناسب کو دوگنا کرنے کے برابر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسپیس ایکس کا کامیاب مشن: نیا فالکن 9 راکٹ مزید 28 سیٹلائٹس لے اڑا
2026 میں راپٹر 3 اسٹار شپ ورژن 3 کے لیے معیاری آپریشنل انجن بن چکا ہے، جس سے پروگرام تجرباتی مرحلے سے نکل کر تیز رفتار پیداوار کے ماحول میں داخل ہو گیا ہے۔
SpaceX’s Raptor 3 engine is sublime engineering
• No basic heat shield needed → saves mass and dramatically boosts reliability
• Small fuel leaks aren’t dangerous — they simply burn off safely in the open plasma
• Major improvements in payload capacity, efficiency, and… pic.twitter.com/3tKF0Ss6ye— Tesla Owners Silicon Valley (@teslaownersSV) January 23, 2026
راپٹر 3 میں کی گئی نئی تکنیکی بہتریوں نے پرزوں کی پائیداری میں اضافہ کیا ہے اور مینوفیکچرنگ کو سادہ بنا دیا ہے، جس سے بڑے پیمانے پر ایک انجن کی قیمت 250,000 ڈالر تک پہنچنے کی صلاحیت پیدا ہو گئی ہے۔
یہ کامیابی اسٹار شپ کی فلائٹ 12 کو تقویت دے رہی ہے، جو 2026 کے شروع میں ٹیکساس سے روانہ ہونے کا امکان ہے، اور مریخ تک دوبارہ قابل استعمال پروازوں کے حوالے سے جوش میں اضافہ کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسپیس ایکس کا مشن کامیاب، ناسا اور ناوا کے اسپیس ویذر سیٹلائٹس خلا میں روانہ
راپٹر 3 کے خاص ڈیزائن کی وجہ سے اسپیس ایکس کئی ٹن فائر سپریشن سسٹمز اور انجنوں کے پیچھے ہیٹ شیلڈز ہٹا سکتا ہے، جس سے گاڑی کا وزن کم اور ٹرن اراؤنڈ زیادہ موثر ہو جاتا ہے۔
مزید برآں راپٹر 3 کو بڑے پیمانے پر پیداوار کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس سے اسٹار شپ پروگرام کے لیے ایک زیادہ مؤثر اور کم لاگت انجن تیار ہو سکے گا۔













