خیبر پختونخواہ (کے پی) کی صوبائی حکومت وادی تیراہ میں انسانی ہمدردی کے بہانے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوششیں کرنے لگی، اور اپنی انتظامی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے اداروں پر الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ تحقیقات کے مطابق تیراہ میں خوارج کی بڑھتی ہوئی موجودگی نے مقامی عوام کو یرغمال بنا رکھا تھا، اور یہ گروہ شہریوں کی آڑ میں دہشتگردی اور عوام پر دباؤ ڈالنے کے خطرناک اقدامات کر رہے تھے۔
مزید پڑھیں: سیکیورٹی فورسز کا وادی تیراہ میں آپریشن، فتنہ خوارج کے سرغنہ سمیت 25 دہشتگرد ہلاک
اس صورتحال میں مقامی آبادی سے کہا گیا کہ وہ یا تو دہشتگردوں کو اپنے درمیان سے نکالیں یا خود عارضی طور پر منتقل ہو جائیں تاکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بلا خطرہ کارروائی کر سکیں۔
تیراہ کے مشران اور بزرگوں نے فیصلہ کیاکہ عوام کا عارضی انخلا ضروری ہے تاکہ علاقہ ہدف کے مطابق آپریشن کے لیے صاف کیا جا سکے۔
حالانکہ یہ فیصلہ باہمی اتفاق رائے سے کیا گیا تھا اور تمام فریقین، سرکاری اہلکار اور فرنٹیئر کور (ایف سی) کی موجودگی میں عوامی سطح پر تسلیم کیا گیا، صوبائی حکومت نے جان بوجھ کر عملدرآمد میں تاخیر کی، جس کا مقصد مبینہ طور پر سیاسی فائدہ اور منشیات کے کاروبار کو تحفظ دینا تھا۔
31 دسمبر کو خیبرپختونخوا حکومت نے بالآخر عارضی انخلا کی منظوری دی اور اس کے لیے 4 ارب روپے مختص کیے۔ عوام کو 15 جنوری تک مقامی انتظامیہ کی نگرانی میں علاقے سے نکلنے کی ہدایت دی گئی۔
تاہم انتظامیہ نے داخلے اور خروج کے پوائنٹس پر ناکافی رجسٹریشن کاؤنٹرز اور عملہ تعینات کیا، جس سے لوگوں میں شدید افراتفری اور لمبی قطاریں بننا شروع ہو گئیں۔ اس بدانتظامی کو عوامی دکھ اور پریشانی کے مناظر تخلیق کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، تاکہ سیاسی مفادات کے لیے ایک کہانی بنائی جا سکے۔
عارضی طور پر منتقل ہونے والے افراد کے انتظامات کی ذمہ داری مکمل طور پر صوبائی حکومت پر ہے۔ رجسٹریشن، کیمپ، خوراک، صحت کی سہولیات، معاوضہ اور لاجسٹکس فوج کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے، لیکن صوبائی ناکامیوں کو بدقسمتی سے فوج کی ناکامی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
8 ماہ تک قانون نافذ کرنے والے ادارے صوبائی حکومت پر زور دیتے رہے کہ تیراہ سے شہریوں کو منتقل کیا جائے تاکہ عسکریت پسند مقامی آبادی میں گھل مل نہ جائیں۔ لیکن حکومت نے اس میں تاخیر کی تاکہ غیر قانونی مفادات، خاص طور پر علاقائی منشیات کی معیشت محفوظ رہے۔
شہریوں کے عارضی انخلا میں تاخیر سے اصل مقصد واضح ہوتا ہے کہ منشیات کی فصل کے کٹائی اور منافع کے حصول تک عوام کی نقل و حرکت روکی گئی، اور اس کے بعد اچانک اجازت دی گئی۔
یہ اقدام پی ٹی آئی کے انسانی ہمدردی کے دعوے کو کمزور کرتا ہے اور تاخیر کے پیچھے اقتصادی مفادات کو ظاہر کرتا ہے۔
اب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور ان کی ٹیم مختص کردہ 4 ارب روپے سے فائدہ اٹھا رہی ہے اور پیدا ہونے والی افراتفری اس کرپشن کا عملی مظہر ہے۔
عارضی انخلا کا مقصد صرف شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور ہدف کے مطابق انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کو ممکن بنانا تھا۔ اگر شہریوں کو منتقل نہ کیا جاتا، تو وہی سیاسی عناصر فوج پر جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے الزامات لگاتے۔
اب بھنگ کی نئی فصل بوئی جا چکی ہے اور وہی عناصر پروپیگنڈا کے ذریعے پریشانی پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
یہ پوری صورت حال حکمرانی کی ناکامی کی عکاسی کرتی ہے، نہ کہ انسانی ہمدردی کے بحران کی۔ انتظامی کمزوری کو جذباتی تقاریر سے چھپایا جا رہا ہے، جبکہ شہریوں کے دکھ کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ صوبائی حکومت کی غفلت کو چھپایا جا سکے۔
مزید پڑھیں: وادی تیراہ: دہشتگردوں کے خلاف آپریشن میں 3 امن دشمن ہلاک، لیفٹیننٹ کرنل اور 3 جوان شہید
پی ٹی آئی جان بوجھ کر سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے آپریشن کو انسانی بحران کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
دہشتگردی کے خلاف کارروائی کے دوران عارضی انخلا ایک عالمی سطح پر قبول شدہ طریقہ کار ہے، جس کا مقصد شہریوں کا تحفظ اور اموات میں کمی ہے۔ اسے اجتماعی سزا قرار دینا نہ صرف فکری طور پر غیر سنجیدہ ہے بلکہ سیاسی طور پر بھی مقاصد کے تابع ہے۔














