آئی ایم ایف کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کی تعریف، حکومت نے کونسی قابل تعریف معاشی اصلاحات کی ہیں؟

اتوار 25 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جورجیوا نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں کی جانے والی معاشی اصلاحات کی کھل کر تعریف کی ہے۔

ڈیووس میں جاری عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ وہ وزیراعظم شہباز شریف کی بہت عزت کرتی ہیں اور انہیں ’Man of His Word‘ یعنی وعدے کا پکا آدمی سمجھتی ہیں۔

مزید پڑھیں: ویون گروپ کا پاکستان میں سرمایہ کاری کا اعلان، معاشی اصلاحات پر عالمی اعتماد کا عکاس

ان کے بقول، پاکستان کی حکومت نے مشکل مگر ناگزیر معاشی اصلاحات کو سنجیدگی سے اپنایا ہے، جس کے مثبت نتائج اب واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ خاص طور پر بجٹ میں نظم و ضبط لانے کی بدولت وسائل کو عوام کی فلاح و بہبود اور زندگیوں کو بہتر بنانے کی طرف موڑا جا رہا ہے۔

کرسٹالینا جورجیوا نے زور دیا کہ پاکستان کی معیشت کو طویل مدتی استحکام اور لچک دینے کے لیے اسی اصلاحاتی رفتار کو برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔

وی نیوز نے جاننے کی کوشش کی ہے کہ اب تک حکومت نے کونسی قابل تعریف معاشی اصلاحات کی ہیں؟

’حکومت اب تک کوئی قابل ذکر اصلاحات کرنے میں ناکام رہی‘

معاشی ماہر شہباز رانا کا مؤقف ہے کہ آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جورجیوا کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی حکومت کی معاشی اصلاحات کی تعریف بنیادی طور پر سطحی اور محدود ہے۔ ان کے مطابق اب تک کی حکومت کوئی بھی قابل ذکر یا گہری معاشی اصلاحات متعارف کرانے میں ناکام رہی ہے۔

’ایک اہم کامیابی صرف یہ ہے کہ ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا گیا، لیکن اس کے علاوہ پاکستان کو ہر چند سال بعد دیوالیہ ہونے کے قریب لے جانے والی تمام بنیادی وجوہات آج بھی اپنی جگہ موجود ہیں اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ سرکاری اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، بلکہ پچھلے سال تو نقصانات میں 300 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔‘

شہباز رانا کے مطابق ٹیکس کلیکشن کے حوالے سے بھی صورتحال تشویشناک ہے۔ ایف بی آر کی جانب سے زیادہ تر موجودہ ٹیکس پیئرز پر ہی انحصار کیا جا رہا ہے، نئے لوگوں کو شامل کرکے ٹیکس نیٹ کو بڑھانے سمیت اخراجات پر بھی کوئی مؤثر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔

ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی تعریف دراصل چند معاشی اشاریوں کی بہتری پر مبنی ہے، جیسے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، بجٹ خسارہ پہلے سے کچھ کم ہونا، اور ایم پی ٹیکس کلیکشن میں موجودہ ٹیکس پیئرز کی وجہ سے اضافہ۔ تاہم ایف بی آر کے اہداف اکثر پورے نہیں ہو رہے۔

’حقیقی اصلاحات جیسے ٹیکس نظام کی توسیع، اخراجات میں کمی، ساختیاتی مسائل کا حل اور پائیدار معاشی بنیادوں کی مضبوطی، ابھی تک حکومت کی جانب سے نہیں کی گئیں۔ یہ تعریف صرف عارضی استحکام اور کچھ اشاریوں کی بہتری کی عکاسی کرتی ہے نہ کہ حقیقی اور دیرپا تبدیلی کی۔‘

حکومت نے معاشی میدان میں اہم اصلاحت متعارف کرائیں، راجا کامران

معاشی ماہر راجا کامران کے مطابق موجودہ حکومت نے معاشی میدان میں متعدد اہم اصلاحات متعارف کروائی ہیں، جن کے مثبت اثرات اب واضح طور پر نظر آ رہے ہیں اور ملک کی مجموعی معیشت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

ان کے مطابق انفلیشن کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے جو اب سنگل ڈیجٹ میں داخل ہو چکی ہے اور قریباً 5 فیصد کے قریب پہنچ گئی ہے۔ انفلیشن کے کنٹرول ہونے سے لوگ اب لانگ ٹرم ویو لینے لگے ہیں اور معیشت میں اعتماد بحال ہو رہا ہے۔

’انفلیشن کم ہونے کی ایک بڑی وجہ روپے کی قدر میں استحکام ہے، جو ایکسچینج مارکیٹ میں کی گئی اصلاحات کی بدولت ممکن ہوا۔ خاص طور پر اسمگلنگ اور افغانستان کی طرف ڈالر کے بہاؤ کو روکنے کے اقدامات نے اہم کردار ادا کیا۔‘

راجا کامران کا مزید کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایکسچینج کمپنیوں کے شعبے میں ساختیاتی اصلاحات کیں، جن میں کم از کم پیڈ اپ کیپیٹل کی حد کو 200 ملین روپے سے بڑھا کر 500 ملین روپے کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ کمپنیوں کے سائز بڑھانے، مرجرز کی حوصلہ افزائی اور بڑے بینکوں کو الگ ایکسچینج کمپنیاں قائم کرنے کی ہدایت کی گئی، جن کی کیپیٹل ایک ارب روپے یا اس سے زیادہ ہے۔

’ان اقدامات سے کرنسی مارکیٹ میں شفافیت اور استحکام آیا ہے۔ نتیجتاً روپے کی قدر میں بہتری ہوئی، امپورٹ اور ایکسپورٹ میں بیلنس بہتر ہو رہا ہے، ڈالرائزیشن کا رجحان قریباً ختم ہو گیا ہے، اور مارکیٹ میں ڈالر کے غیر ضروری خریدار کم ہو گئے ہیں۔‘

انہوں نے کہاکہ اس استحکام کی بدولت اسٹیٹ بینک مارکیٹ سے ڈالر خرید کر اپنے ذخائر میں اضافہ کررہا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، جنوری 2026 میں اسٹیٹ بینک کے پاس غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر قریباً 16.09 بلین ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جو چند سال قبل چند ارب ڈالر تک گر جانے کے مقابلے میں ایک بڑی بہتری ہے اور مسلسل اضافہ جاری ہے۔

’نجکاری کا عمل دوبارہ فعال ہونا خوش آئند ہے‘

انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ نجکاری کا عمل بھی دوبارہ فعال ہوا ہے۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی پرائیویٹائزیشن دسمبر 2025 میں مکمل ہوئی، جہاں حکومت نے 75 فیصد حصص ایک نجی کنسورشیم (عارف حبیب کی قیادت میں) کو فروخت کیے۔

’یہ پاکستان میں نجکاری کے عمل کی طویل رکاوٹ کے بعد ایک اہم پیشرفت ہے، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے اور معیشت کے بارے میں عوامی اور عالمی تاثر مثبت ہوا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ حکومت ڈیجیٹلائزیشن پر بھی توجہ دے رہی ہے، خاص طور پر بینکاری اور مالیاتی شعبے میں، جس سے کرنسی کے بہاؤ، پیسے کی نقل و حرکت اور ٹریکنگ میں بہتری آ رہی ہے۔

’سرکاری اداروں میں ڈیجیٹل لین دین کو فروغ دیا جارہا ہے‘

راجا کامران نے کہاکہ سرکاری اداروں میں کیش کے بجائے ڈیجیٹل لین دین کو فروغ دیا جا رہا ہے، جو شفافیت، کارکردگی اور کرپشن کی روک تھام میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔

’ایف بی آر سمیت ٹیکس اداروں کی ساخت میں بھی بہتری لانے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح کو بڑھایا جا سکے۔ جب یہ شرح بڑھے گی تو معیشت کی بنیادیں مزید مضبوط ہوں گی اور پائیدار ترقی ممکن ہوگی۔‘

راجا کامران کے خیال میں یہ تمام اقدامات انفلیشن کنٹرول، روپے کی قدر میں استحکام، ذخائر میں اضافہ، نجکاری کی بحالی اور ڈیجیٹلائزیشن مل کر پاکستان کی معیشت کو پائیدار اور خود انحصار بنانے کی طرف لے جا رہے ہیں۔ یہ اصلاحات عارضی نہیں بلکہ ساختیاتی نوعیت کی ہیں، جو طویل مدتی معاشی استحکام اور ترقی کی بنیاد فراہم کر رہی ہیں۔

حکومت نے سنجیدگی سے آئی ایم ایف پروگرام پر عملدرآمد کیا، عابد سلہری

معاشی ماہر عابد سلہری کے مطابق حکومتِ پاکستان نے اس بار سیاسی مصلحتوں کو ایک طرف رکھ کر آئی ایم ایف پروگرام پر سنجیدگی سے عملدرآمد کیا ہے، جو ملکی معیشت کے استحکام کے لیے ناگزیر تھا۔

انہوں نے کہاکہ پی آئی اے کی نجکاری، گندم اور چینی کے شعبوں کی ڈی ریگولیشن، ٹیکس نیٹ میں توسیع کی کوششیں اور بجلی کی لاگت کی مکمل ریکوری کے ذریعے توانائی کے شعبے میں سرکولر ڈیٹ کو کم کرنے جیسے فیصلے بلاشبہ مشکل تھے، مگر آئی ایم ایف پروگرام کو جاری رکھنے اور معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے یہ اقدامات ضروری تھے۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کی ایم ڈی آئی ایم ایف سے ملاقات، ادارہ جاتی اصلاحات پر پیشرفت سے آگاہ کیا

’اسی تناظر میں ایم ڈی آئی ایم ایف کی جانب سے حکومتِ پاکستان کی تعریف اس بات کا ثبوت ہے کہ اصلاحاتی ایجنڈے پر عملدرآمد درست سمت میں جا رہا ہے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شادی کے 2 ماہ بعد خاتون محبوب کے ساتھ فرار، شوہر اور رشتہ کرانے والے نے خودکشی کرلی

’اسکول میں موٹیویٹ کرتے تھے اب پیزا ڈیلیور کررہے ہو‘، سابق کلاس فیلو کا ڈیلیوری بوائے پر طنز، ویڈیو وائرل

گل پلازہ سانحے کے پیچھے قبضہ مافیا ہوسکتی ہے، فیصل ایدھی نے خدشات کا اظہار کردیا

کیا ’نیو اسٹارٹ‘ کے خاتمے سے نئے ایٹمی خطرات بڑھ جائیں گے؟

طالبان کہانی: افغان طالبان سے پاکستانی طالبان تک

ویڈیو

کیا محمود اچکزئی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کروا پائیں گے؟

 خون جما دینے والی سردی کا توڑ لاندی جو گھروں سے نکل کر ہوٹل تک پہنچ گئی

خیبر پختونخوا میں آج بھی جنرل فیض کی ٹیم بیوروکریسی کے اہم عہدوں پر اور صوبے کی کرتا دھرتا ہے، اختیار ولی خان

کالم / تجزیہ

طالبان کہانی: افغان طالبان سے پاکستانی طالبان تک

کیا سوشل میڈیا کا دور ختم ہوا؟

ایک تھا ونڈر بوائے