امریکا میں شدید برفانی طوفان کے باعث ٹیکساس سے شمال مشرقی ریاستوں تک فضائی نظام شدید متاثر ہو گیا ہے۔ ہفتے کے روز کم از کم 18 ریاستوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی، جبکہ ہزاروں پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہوئیں۔
پولیٹیکو کے مطابق ہفتے اور اتوار کے دوران ملک بھر میں تقریباً 12 ہزار پروازیں منسوخ کی گئیں، جبکہ فلائٹ ایئر کے اعداد و شمار کے مطابق ہفتے کے روز امریکا کے اندر، امریکا آنے اور جانے والی 3,876 پروازیں منسوخ اور 2,783 تاخیر کا شکار ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا میں شدید سرمائی طوفان، 10 ہزار پروازیں منسوخ، لاکھوں افراد متاثر
ٹیکساس کے شہر ڈلاس کا ڈیلاس فورٹ ورتھ انٹرنیشنل ایئرپورٹ سب سے زیادہ متاثر رہا، جہاں 717 روانہ ہونے والی پروازیں منسوخ اور 91 تاخیر کا شکار ہوئیں، جو مجموعی طور پر 81 فیصد منسوخ اور 10 فیصد تاخیر شدہ پروازوں کے برابر ہیں۔ اسی ایئرپورٹ پر آنے والی 683 پروازیں بھی متاثر ہوئیں، جن میں سے 77 فیصد منسوخ اور 7 فیصد تاخیر کا شکار رہیں۔
ڈلاس کے قریبی لیو فیلڈ ایئرپورٹ سے روانہ ہونے والی 93 پروازیں منسوخ اور 13 تاخیر کا شکار ہوئیں، جو بالترتیب 62 فیصد اور 8 فیصد بنتی ہیں۔ ٹینیسی کے نیش وِل انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بھی صورتحال تشویشناک رہی، جہاں روانہ ہونے والی 59 فیصد (148) پروازیں منسوخ اور 11 فیصد (26) تاخیر کا شکار ہوئیں، جبکہ آنے والی 72 فیصد (179) پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق برفانی طوفان راکی پہاڑوں سے مشرق کی جانب بڑھ رہا ہے اور جنوبی، وسطی اور شمال مشرقی ریاستوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ طوفان کے باعث متعدد علاقوں میں اسکول بند کر دیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: چترال میں گھر پر برف کا تودہ گرنے سے 9 مکین جاں بحق
جنوبی ریاستوں میں منجمد بارش جبکہ شمالی اور وسطی ریاستوں میں شدید برفباری ہو رہی ہے۔ آرکنساس کے شہر لِٹل راک میں ہفتے کی دوپہر تک 8 انچ برفباری ریکارڈ کی گئی، جبکہ واشنگٹن ڈی سی میں اتوار کی رات تک برف اور منجمد بارش کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اگرچہ طوفان پیر تک کمزور پڑ جائے گا، تاہم اس کے بعد ایک ہفتے تک شدید سردی برقرار رہنے کا امکان ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس طوفان سے 180 ملین سے زائد افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔












