بھارت کے شہر شاہجہان پورمیں ایک 21 سالہ نوجوان اور 19 سالہ خاتون کو جمعہ کی شام ایک ہندو تنظیم کے افراد نے ہراساں کیا، جس کے بعد جوڑے نے پیسا شاپ کی دوسری منزل سے چھلانگ لگا دی۔ دونوں شدید زخمی ہو گئے اور ایک نجی اسپتال میں علاج جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت میں جبری مذہبی تبدیلیوں کے خلاف آواز بلند کرنے والے گروپ پر انتہا پسند ہندوؤں کا حملہ
پولیس کے مطابق واقعہ کینٹ تھانے کے حدود میں بیریلی مور کے قریب واقع ایک عمارت کی دوسری منزل پر ہوا، جہاں جوڑے نے انسٹنٹ نوڈلز کا آرڈر دیا تھا۔ انتظار کے دوران کچھ افراد نے ان سے ان کی ذات کے بارے میں سوالات کیے، جس سے وہ گھبرا گئے۔
यूपी | जिला शाहजहांपुर में गर्लफ्रेंड–बॉयफ्रेंड रेस्टोरेंट में मैगी खा रहे थे। हिंदू संगठनों के कुछ कार्यकर्ता घुस आए। आधार कार्ड मांगा, अभद्र व्यवहार किया, वीडियो बनाने लगे। इससे डरकर लड़की खिड़की से नीचे कूद गई। उसे बचाने के लिए लड़का भी खिड़की से कूद गया। दोनों को चोटें आई… pic.twitter.com/QHXdst8MBg
— Sachin Gupta (@SachinGuptaUP) January 25, 2026
میڈیا رپورٹ کے مطابق، نوجوان اور نوجوان خاتون نے بتایا کہ وہ ہندو ہیں، جس کے بعد بعض افراد نے انہیں موبائل فون سے ریکارڈ کرنا شروع کر دیا۔ خوفزدہ جوڑا نے فوری طور پر کھڑکی کی سلاخیں ہٹائیں اور چھلانگ لگا دی۔
پولیس نے بتایا کہ دونوں کو فوری طور پر نجی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں شدید زخموں کی وجہ سے علاج کیا جا رہا ہے۔ ایس پی راجیش دویدی نے کہا کہ پولیس کو اطلاع ملنے پر موقع پر پہنچ گئی اور معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ ابھی تک کسی کی جانب سے شکایت درج نہیں کرائی گئی ہے، تاہم پولیس نے وعدہ کیا ہے کہ جیسے ہی شکایت موصول ہوگی سخت کارروائی کی جائے گی۔














