امریکی پینٹاگون نے اپنی نئی قومی دفاعی حکمت عملی جاری کر دی ہے، جس میں ملک کی سرحدوں کے تحفظ، عالمی اتحادیوں کے کردار اور چین و روس جیسے بڑے حریفوں سے نمٹنے کے حوالے سے اہم تبدیلیاں دکھائی گئی ہیں۔ یہ منصوبہ ’طاقت کے ذریعے امن‘ کے اصول پر مبنی ہے اور امریکا کی نئی عسکری ترجیحات کا خاکہ پیش کرتا ہے۔
پچھلی حکومتوں پر تنقید
نئی حکمت عملی میں سابقہ امریکی انتظامیہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق پچھلی حکومت نے اتحادی ممالک کو اپنے دفاعی فرائض سنجیدگی سے نہ لینے کی اجازت دی، جبکہ حریفوں کو مضبوط ہونے کا موقع ملا۔ داخلی طور پر سرحدیں غیر محفوظ رہیں اور مغربی نصف کرہ میں منشیات اور دہشت گرد تنظیمیں مزید طاقتور ہو گئیں۔
The US military will prioritise protecting the homeland and deterring China while providing "more limited" support to allies in Europe and elsewhere, according to a Pentagon strategy document https://t.co/imFgaVGEe5 pic.twitter.com/TXkfZ1cb3P
— Al Jazeera English (@AJEnglish) January 24, 2026
ملک کی حفاظت پر زور
اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد امریکا کی سرحدوں اور ملک کی حفاظت ہے۔ پینٹاگون نے کہا ہے کہ وہ ملک کے آسمانوں، سمندری راستوں اور اہم علاقوں جیسے پاناما کینال، میکسیکو کی خلیج اور گرین لینڈ کو محفوظ بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ اس میں جدید نیوکلیئر دفاع، سائبر سیکورٹی اور ممکنہ دہشت گردانہ خطرات کا مقابلہ شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مصنوعی ذہانت کی دنیا میں چین امریکا کو پیچھے چھوڑنے کے قریب پہنچ گیا
چین کو روکنے کی حکمت
نئی دفاعی دستاویز میں چین کو براہ راست خطرہ قرار نہیں دیا گیا بلکہ اس کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ حکمت عملی میں واضح کیا گیا ہے کہ مقصد چین کو نقصان پہنچانا یا اسے رسوا کرنا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ وہ امریکہ یا اس کے اتحادیوں پر غالب نہ آ سکے۔

روس کے حوالے سے رویہ
روس کو بھی خطرہ قرار دیا گیا ہے لیکن اسے ’قابلِ انتظام‘ سمجھا گیا ہے۔ امریکی حکمت عملی میں کہا گیا ہے کہ یورپی اتحادی خود روس کے خطے میں مسائل حل کریں، جبکہ امریکا صرف اپنے ملک کی حفاظت پر توجہ دے گا۔ روس کے پاس سب سے بڑا نیوکلیئر ہتھیاروں کا ذخیرہ ہے اور اس کی فوجی طاقت ابھی بھی مؤثر ہے۔
اتحادی ممالک سے تعاون کی توقع
نئی دفاعی حکمت عملی میں کہا گیا ہے کہ امریکا اب اتحادی ممالک سے اپنی ذمہ داریوں میں حصہ لینے کا مطالبہ کرے گا۔ اسرائیل کو ’مثالی اتحادی‘ قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ دیگر ممالک بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کریں تاکہ امریکہ اپنے داخلی دفاع پر توجہ مرکوز کر سکے۔
Pentagon’s new strategy names defending the US homeland and Western Hemisphere as the TOP priority — Politico
China remains a THREAT, but no longer the main one, Europe is downgraded pic.twitter.com/g2NMWjEaFn
— RT (@RT_com) January 24, 2026
عسکری صنعت کی مضبوطی
حکمت عملی میں امریکی دفاعی صنعت کو مضبوط کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ مقامی پروڈکشن میں سرمایہ کاری، پرانی پالیسیوں کا خاتمہ، اور جدید ٹیکنالوجیز جیسے مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال اس کا حصہ ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ امریکہ خود اور اپنے اتحادیوں کے لیے اعلیٰ معیار کے ہتھیار تیزی سے تیار کر سکے۔
بشکریہ: رشیا ٹوڈے













