مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علما نے شریعتِ اسلامیہ اور قرآن و سنت کے نام پر افغان معاشرے کو مختلف طبقات میں تقسیم کرنے کی اطلاعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان حکومت کی جانب سے دیے جانے والے ایسے احکامات کسی بھی صورت قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ہر اس عمل کو مسترد کریں گے جو اہل فلسطین کو قبول نہیں ہوگا، طاہر اشرفی کی ڈاکٹر محمود الہباش سے ٹیلیفونک گفتگو
علما کے مطابق حالیہ اطلاعات میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ شریعتِ اسلامیہ اور قرآن و سنت کی تعلیمات کے نام پر افغان معاشرے کو مختلف حصوں میں تقسیم کرنے اور معاشرے کو آزاد اور غلام کی بنیاد پر منقسم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جو صریحاً اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قرآن و سنت میں ایسی کسی تقسیم کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔
یہ بات مختلف علما نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی تقسیم نہ صرف قرآن و سنت کے احکامات کے منافی ہے بلکہ یہ ہندوانہ ذات پات کے نظام سے مشابہت رکھتی ہے، جہاں معاشرے کو مخصوص بنیادوں پر طبقات میں تقسیم کیا جاتا ہے، جیسا کہ اب افغانستان میں کیے جانے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔
علماء نے کہا کہ افغان طالبان حکومت، جو خود کو ایک شرعی اسلامی حکومت قرار دیتی ہے، اس پر لازم ہے کہ وہ ان معاملات پر فوری طور پر اپنا واضح موقف دنیا کے سامنے لائے اور عہدِ جاہلیت کے قوانین اور رسومات کو اسلام کے نام پر دوبارہ نافذ کرنے سے گریز کرے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام اور رسول اکرمؐ کی آمد کے بعد دورِ جاہلیت کا خاتمہ ہو چکا تھا، جس میں انسانوں کو غلام بنایا جاتا، عورتوں کے حقوق غصب کیے جاتے اور معاشرے کو مختلف طبقوں میں تقسیم کیا جاتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:حافظ محمد طاہر اشرفی اسلامی و خلیجی ممالک اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر مقرر
علما نے سوال اٹھایا کہ کیا افغان حکام کے سامنے رسول اکرمؐ کا یہ واضح فرمان موجود نہیں کہ کسی کالے کو گورے پر، گورے کو کالے پر، عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، سوائے تقویٰ کے۔
ان کا کہنا تھا کہ جس طرزِ فکر اور انداز کو اختیار کیا جا رہا ہے وہ انسانیت کی توہین اور تذلیل کے مترادف ہے، اور ایسے احکامات کو شرعی احکامات کے بجائے جدید جاہلیت کا مظہر ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔













