جانوروں کی دنیا میں بھی بعض معاشرے سخت آمریت کے تحت چلتے ہیں، جبکہ کچھ قدرتی طور پر برابری اور تعاون پر قائم ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان سماجی ڈھانچوں سے انسان اپنے لیے اہم اسباق حاصل کر سکتا ہے۔
1950 کی دہائی میں برطانیہ کے ماہرِ ماحولیات پیٹر کروکرافٹ نے چوہوں پر تحقیق کے دوران ایک چوہے ‘بل’ کا مشاہدہ کیا، جو اپنے ساتھیوں پر جارحانہ غلبہ حاصل کر کے ایک ظالم حکمران بن گیا۔ بل نے نہ صرف دوسرے چوہوں کو شکست دی بلکہ خوراک اور وسائل پر بھی مکمل کنٹرول قائم رکھا۔ کروکرافٹ نے بعد میں لکھا کہ چوہوں کے رویے دیکھ کر انہیں انسانی معاشروں کی جھلک نظر آئی۔
یہ بھی پڑھیے: لاہور چڑیا گھر میں 5 برس کے دوران 70 قیمتی جانور اور پرندے ہلاک ہونے کا انکشاف
تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ بابون، بینڈڈ منگوز، نیوڈ مول ریٹس اور دیگر کئی جانور ایسے سماجی نظام میں رہتے ہیں جہاں طاقت چند افراد کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ ان معاشروں میں طاقتور افراد کو زیادہ خوراک، بہتر افزائش کے مواقع اور فیصلوں پر اثر و رسوخ حاصل ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب کمزور افراد کے پاس فرار کا کوئی راستہ نہ ہو تو آمریت مزید مضبوط ہو جاتی ہے۔
تاہم ہر جانوروں کا معاشرہ ایسا نہیں۔ برازیل میں پائے جانے والے نارتھرن مُوریقی بندر دنیا کے سب سے پُرامن جانوروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے معاشرے میں نہ کوئی ظالم رہنما ہے اور نہ شدید جھگڑے۔ خوراک اور وسائل صبر اور برداشت کے ساتھ تقسیم کیے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: چترال میں شکار اور جانوروں کے مناظر پر مبنی قدیم ترین چٹانی نقوش دریافت
سائنس دانوں کے مطابق وسائل کی غیر مساوی تقسیم، جینیاتی عوامل اور ماحول آمریت کے ابھرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جانوروں کے یہ مشاہدات انسانوں کو یہ سکھاتے ہیں کہ تعاون، برابری اور برداشت وہ راستہ ہے جو کسی بھی معاشرے کو پائیدار اور مضبوط بنا سکتا ہے۔














