سردیوں کے موسم میں دھوپ کم ہونے کی وجہ سے اکثر لوگ وٹامن ڈی کے سپلیمنٹس استعمال کرتے ہیں، لیکن ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ وٹامن ڈی کا حد سے زیادہ استعمال صحت کے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کے مطابق مناسب مقدار فائدہ مند ہے، مگر زیادہ مقدار نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے کیلشیم اور وٹامن ڈی ناگزیر، ماہرین
این ایچ ایس کا کہنا ہے کہ اکتوبر سے مارچ تک دھوپ اتنی مضبوط نہیں ہوتی کہ جسم خود وٹامن ڈی بنا سکے، اسی لیے روزانہ 10 مائیکروگرام وٹامن ڈی لینے کا مشورہ دیا جاتا ہے تاکہ ہڈیاں اور پٹھے صحت مند رہیں۔ وٹامن ڈی سورج کی روشنی سے بنتا ہے اور یہ کیلشیم جذب کرنے، ہڈیوں کو مضبوط رکھنے اور مدافعتی نظام کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔
تاہم ماہر حیاتیات اور ریپوز ہیلتھ کیئر کے شریک بانی ٹوبیاس ماپولانگا نے خبردار کیا ہے کہ کچھ لوگ سپلیمنٹس کا زیادہ استعمال کر لیتے ہیں، جس کے نتیجے میں صحت بگڑنے لگتی ہے۔ ان کے مطابق لوگ اکثر ان علامات کو موسم کی بیماری سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ یہ وٹامن ڈی کی زیادتی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق وٹامن ڈی زیادہ لینے کی ممکنہ علامات میں شامل ہیں: غیر معمولی پیاس لگنا، بار بار پیشاب آنا، متلی یا دل خراب ہونا، پیٹ میں درد یا قبض، سر درد یا ذہنی الجھن، جسم میں درد، کھچاؤ یا پٹھوں میں اینٹھن۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ درست مقدار میں وٹامن ڈی صحت کے لیے مفید ہے، لیکن مقدار بڑھانے یا مختلف سپلیمنٹس ایک ساتھ استعمال کرنے سے فائدے کے بجائے نقصان ہو سکتا ہے۔ اس لیے سپلیمنٹ لینے سے پہلے احتیاط اور اعتدال ضروری ہے۔














