ایمان مزاری کا اداروں کے خلاف پراپیگنڈہ، سزا کے بعد تقاریر زیر بحث

اتوار 25 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خود کو انسانی حقوق کی علمبردار قرار دینے والی وکیل ایمان زینب مزاری ایک بار پھر اپنے سخت اور متنازع بیانات کے باعث خبروں کی زینت بن گئی ہیں۔

مختلف عوامی تقاریر میں انہوں نے ریاستی اداروں، خصوصاً افواجِ پاکستان اور انٹیلی جنس اداروں کے خلاف نہایت اشتعال انگیز زبان استعمال کی، جس پر ہمیشہ سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا، تاہم ریاستی اداروں نے ہمیشہ تحمل سے کام لیا۔

مزید پڑھیں: ایمان مزاری کی گرفتاری، آزادیٔ اظہار نہیں بلکہ ریاست مخالف بیانیے کے خلاف قانونی کارروائی قرار

ایمان مزاری نے اپنی تقاریر میں اعلیٰ فوجی قیادت کو براہِ راست تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیاکہ ملک میں بدامنی، جبری گمشدگیوں اور سیاسی عدم استحکام کے ذمہ دار ریاستی ادارے ہیں۔

ماضی میں وہ دعویٰ کر چکی ہیں کہ جن افراد کو لاپتا کیا جاتا ہے، ان میں اکثریت ان لوگوں کی ہوتی ہے جو فوج یا خفیہ اداروں پر تنقید کرتے ہیں، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

ان کے بقول، پاکستان کا ریاستی ڈھانچہ آج بھی نوآبادیاتی قوانین کے تحت چل رہا ہے اور اظہارِ رائے کی آزادی کو دانستہ طور پر دبایا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں اظہار رائے کی جتنی آزادی ہے اتنی کسی دوسرے ملک میں نہیں۔

ایک خطاب کے دوران ایمان مزاری نے نہ صرف فوجی قیادت کے خلاف سخت زبان استعمال کی بلکہ انہیں ’قابض ادارہ‘ قرار دیا۔

ان کے اس بیان پر سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ مضبوط فوج کسی بھی ملک کے دفاع کے لیے ناگزیر ہے۔ ایمان مزاری اور ان جیسے دیگر لوگوں کو کم از کم معرکہ حق کے بعد عقل آ جانی چاہیے تھی جو نہیں آئی۔

ایمان مزاری نے اپنی تقاریر میں سول نافرمانی، احتجاجی تحریکوں اور ریاستی نظام کے بائیکاٹ کی بھی بات کی، جسے ناقدین نے کھلی اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایمان مزاری کے یہ بیانات نہ صرف ریاستی اداروں کے وقار کو مجروح کرتے ہیں بلکہ معاشرے میں مزید انتشار اور کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ناقدین کے مطابق اختلافِ رائے اور تنقید جمہوری حق ضرور ہے، تاہم اس کے لیے شائستہ زبان اور آئینی دائرہ کار کی پابندی ناگزیر ہے۔

مزید پڑھیں: متنازع ٹوئٹس کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو مجموعی طور پر 17،17 سال قید کی سزا سنا دی گئی

واضح رہے کہ ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر کو متنازع ٹوئٹس کیس میں گزشتہ روز مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے، جس کے بعد ان کے بیانات اور سرگرمیاں ایک بار پھر بحث کا مرکز بن گئی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بسنت کے رنگ فیشن مارکیٹ میں، پاکستانی برانڈز کی خصوصی کلیکشنز اور آفرز

 بسنت 2026 کو محفوظ اور پرامن بنانے کے لیے لاہور میں سخت حفاظتی انتظامات

ریکارڈ اضافے کے بعد سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی، فی تولہ کتنا سستا ہوا؟

بھارتی فلم دھرندھر نیٹ فلکس پر ریلیز، اصلی فلم کہاں گئی؟

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا: احتجاج کے حوالے سے پتے پوشیدہ ہیں، وی نیوز سے خصوصی گفتگو

ویڈیو

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا: احتجاج کے حوالے سے پتے پوشیدہ ہیں، وی نیوز سے خصوصی گفتگو

سخت شرائط کے باوجود اسٹینڈ بائی پروگرام حاصل کیا اور پاکستان کو اقتصادی بحران سے نکالا، شہباز شریف

کیا محمود اچکزئی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کروا پائیں گے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کہانی: افغان طالبان سے پاکستانی طالبان تک

کیا سوشل میڈیا کا دور ختم ہوا؟

ایک تھا ونڈر بوائے