پنجاب حکومت نے صوبے بھر کے اسکولوں اور کالجز میں گرمیوں کی چھٹیاں کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد تعلیمی کیلنڈر کو یکساں بنانا اور تعلیمی نتائج میں بہتری لانا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بنچ کی ہدایت پر تشکیل دی گئی کمیٹی کی سفارشات کے مطابق پنجاب کے تمام اسکولوں اور کالجز کے لیے سالانہ 190 تدریسی دن مکمل کرنا لازمی ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: اسکول اب بچوں کو کتابیں اور یونیفارم من پسند دکانوں سے خریدنے پر مجبور نہیں کرسکیں گے، پنجاب حکومت نے تاکید کردی
کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حالیہ برسوں میں تعطیلات میں مسلسل اضافہ تعلیمی نظام پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، خاص طور پر اعلیٰ کلاسوں میں جہاں نصاب بروقت مکمل نہیں ہو پاتا، جس سے طلبا کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔
بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن لاہور کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان کے مطابق حکومت نے گرمیوں کی چھٹیاں کو 36 دن کم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کے تحت تعطیلات دو ماہ 15 دن سے کم کر کے 6 ہفتے (42 دن) کردی جائیں گی۔
اس اقدام کا مقصد طلبا کی تعلیمی کارکردگی میں بہتری اور نصاب کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانا ہے۔ نجی aسکول ایسوسی ایشنز نے بھی اس تجویز کی حمایت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب اسکولوں کے تدریسی اوقات تبدیل، نئے شیڈول کا اطلاق
کمیٹی نے گزشتہ 4 ماہ کے دوران 4 میٹنگز کیں اور تیسری میٹنگ لاہور میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت سیکریٹری اسکول ایجوکیشن نے کی۔ نجی تعلیمی اداروں نے سفارشات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یکساں اور متوازن تعلیمی کیلنڈر تعلیمی معیار کو بہتر بنائے گا اور طلبا کو کورس ورک مکمل کرنے میں مدد دے گا۔
پنجاب ایجوکیشن کرِکیولم اینڈ ٹیسٹنگ اتھارٹی (پی ای سی ٹی اے) اور ڈائریکٹر پبلک انسٹرکشن (ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری) سفارشات کے بعد یکساں تعلیمی کیلنڈر تیار کریں گے۔
یاد رہے کہ یہ کمیٹی لاہور ہائیکورٹ کی آئینی درخواست کی سماعت کے دوران تشکیل دی گئی تھی، جس میں تعلیمی اداروں میں تعطیلات میں اضافے پر تشویش ظاہر کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کا نجی اسکولوں کی فیس کم کرنے کا فیصلہ، حقیقت کیا ہے؟
کمیٹی کی رپورٹ اگلی سماعت میں عدالت کے سامنے پیش ہونے کی توقع ہے، جس کے بعد تعلیمی کیلنڈر پر حتمی فیصلہ متوقع ہے۔














