جرمن حکومت نے پاکستان سمیت چند ممالک کے شہریوں کے لیے فیملی ری یونین ویزا (FRV) کے عمل کو ڈیجیٹل بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
جرمن وزارت خارجہ کے مطابق اس نئے آن لائن سسٹم کا مقصد ویزا درخواستوں کے عمل کو تیز، شفاف اور مؤثر بنانا ہے تاکہ درخواست گزاروں کو درپیش غیر معمولی تاخیر، طویل انتظار کی فہرستوں اور انتظامی پیچیدگیوں پر قابو پایا جا سکے۔
مزید پڑھیں: جرمنی کا ڈیجیٹل ویزا پلیٹ فارم: طلبہ، اسکلڈ لیبر اور پروفیشنلز کو کیا فائدہ ہوگا؟
وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے سے سفارت خانوں پر دباؤ کم ہوگا اور درخواستوں کی جانچ پڑتال زیادہ منظم انداز میں ممکن ہو سکے گی۔
نئے نظام کے تحت فیملی ری یونین ویزا کے خواہش مند افراد اب اپنی درخواستیں جرمن وزارت خارجہ کے آن لائن قونصلر پورٹل کے ذریعے جمع کروا سکیں گے۔
’اب آن لائن پورٹل پر درخواست دینا ہوگی‘
’اس پورٹل پر ویزا فارم پُر کرنے کے ساتھ ساتھ تمام ضروری دستاویزات ڈیجیٹل طور پر اپ لوڈ کی جائیں گی، جس کے بعد درخواست کی ابتدائی جانچ آن لائن ہی کی جائے گی۔‘
حکام کے مطابق اس مرحلے پر اگر کسی درخواست میں کمی یا غلطی پائی گئی تو درخواست گزار کو بروقت آگاہ کیا جائے گا، تاکہ وہ انٹرویو یا بائیومیٹرک مرحلے سے پہلے ہی اپنی درخواست مکمل کر سکے۔
جرمن حکام کا کہنا ہے کہ ماضی میں دستی طریقہ کار کی وجہ سے درخواستوں کے انبار، محدود اپائنٹمنٹس اور غیر واضح پراسیس کے باعث درخواست گزاروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا، خاص طور پر پاکستان جیسے ممالک میں انتظار کی مدت کئی ماہ اور بعض کیسز میں ایک سال سے بھی زیادہ ہو جاتی تھی۔
اسی پس منظر میں ڈیجیٹل سسٹم کو ضروری قرار دیا گیا ہے تاکہ درخواستوں کو ترجیحی بنیادوں پر اور بہتر ٹریکنگ کے ساتھ نمٹایا جا سکے۔
تاہم نئے آن لائن سسٹم کے مکمل نفاذ سے قبل کئی درخواست گزاروں کو عارضی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ کچھ افراد جو پہلے سے انتظار کی فہرست میں شامل تھے، انہیں یہ سمجھنے میں دشواری ہوئی کہ آیا وہ پرانے طریقہ کار کے تحت رہیں گے یا نئی ڈیجیٹل درخواست دینا ہوگی۔
جرمن سفارت خانوں نے واضح کیا ہے کہ منتقلی کے اس مرحلے میں پرانے کیسز کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا، بلکہ انہیں بتدریج نئے نظام میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ تاہم یہ نیا نظام بہت سے خاندانوں کے لیے تکلیف اور ذہنی اذیت کا باعث بھی بن رہا ہے۔
’2 سال تک انتظار کرنے والے شہری کو اب نئے امیدوار کے طور پر درخواست دینا ہوگی‘
جرمنی میں مقیم پاکستانی صائم رؤف کا تعلق ہیمبرگ سے ہے، ان کی شادی اپریل 2024 میں ہوئی، جس کے بعد انہوں نے جون 2024 میں اسلام آباد میں واقع جرمن سفارت خانے میں فیملی ری یونین ویزا (FRV) کے لیے ویٹنگ لسٹ میں اپوائنٹمنٹ حاصل کرنے کی درخواست دی۔
درخواست کے وقت سفارت خانے کی جانب سے انہیں 24 ماہ (یعنی دو سال) کا ویٹنگ ٹائم بتایا گیا، جو کہ کسی بھی شادی شدہ جوڑے کے لیے ایک غیر معمولی طور پر طویل عرصہ ہے۔
صائم رؤف کے مطابق یہ انتظار پہلے ہی انتہائی صبر آزما تھا، قریباً ڈیڑھ سال گزر چکا تھا اور وہ اس امید میں تھے کہ اب اپوائنٹمنٹ کا وقت قریب آ رہا ہے۔
تاہم اسی دوران جرمن سفارت خانے کی جانب سے ایک نیا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، جس نے ہزاروں درخواست گزاروں کو شدید تشویش میں مبتلا کردیا۔
’ویٹنگ لسٹ میں موجود تمام اپوائنٹمنٹس کو منسوخ کردیا گیا‘
نوٹیفکیشن کے مطابق ویٹنگ لسٹ میں موجود تمام اپوائنٹمنٹس کو منسوخ کردیا گیا اور اعلان کیا گیا کہ فیملی ری یونین ویزا کے لیے ایک نیا آن لائن پورٹل متعارف کروایا جا رہا ہے۔
اس نئے سسٹم کے تحت تمام درخواست گزاروں کو، چاہے وہ جتنا بھی طویل انتظار کر چکے ہوں، دوبارہ ابتدا سے اپلائی کرنا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صائم رؤف سمیت تمام متاثرہ افراد اب ایک فریش امیدوار کے طور پر دوبارہ قطار میں کھڑے ہوں گے۔
واضح رہے کہ جرمن وزارت خارجہ کے مطابق فیملی ری یونین ویزا کے لیے درکار بنیادی شرائط اور دستاویزات میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
شادی کا ثبوت، خاندانی تعلقات کی تصدیق، رہائش اور آمدن سے متعلق دستاویزات اور دیگر قانونی تقاضے بدستور وہی ہیں، تاہم اب ان کی درست اور مکمل اسکین شدہ نقول آن لائن جمع کروانا لازمی ہوگا۔
مزید پڑھیں: جرمنی کا فری لانس ویزا کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے؟
حکام کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کار سے جعلی یا نامکمل درخواستوں کی حوصلہ شکنی ہوگی اور فیصلوں میں شفافیت بڑھے گی۔
جرمن حکام کے مطابق یہ ڈیجیٹل اصلاحات مجموعی طور پر ویزا نظام کو جدید بنانے کی پالیسی کا حصہ ہیں، جس کے تحت مختلف اقسام کے قومی ویزا، مرحلہ وار آن لائن کیے جا رہے ہیں۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس اقدام سے فیملی ری یونین کے منتظر خاندانوں کو جلد ریلیف ملے گا اور وہ غیر ضروری انتظار اور ذہنی دباؤ سے بچ سکیں گے۔













