لندن میں مقیم یوکرینی شہری اینا کے مطابق، وہ چیٹ جی پی ٹی کے پریمیئم ورژن کو اپنی روزمرہ زندگی میں اس لیے استعمال کرتی ہیں کہ یہ روبوٹ نہ صرف صبر سے سنتا ہے بلکہ بغیر کسی فیصلے یا تنقید کے گفتگو کے دوران انہیں خود پر غور و فکر کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 5 سال میں مصنوعی ذہانت انسانی سوچ بھی آگے بڑھ جائے گی، ایلون مسک کا پیشگوئی
بی بی سی کی رپورٹ میں ایک حالیہ تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ سنہ 2025 میں اے آئی کے ذریعے سب سے زیادہ استعمال تھراپی اور رفاقت کے لیے ہوا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اے آئی کی فراہم کردہ تحریری جوابات بعض اوقات انسانی ردعمل سے زیادہ ہمدرد سمجھے گئے خواہ وہ تربیت یافتہ کرائسز ہاٹ لائن کے عملے ہی کیوں نہ ہوں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کہ اے آئی ہمیں یہ سکھا سکتا ہے کہ کس طرح بغیر رکاوٹ، غیر جانبدارانہ اور توجہ مرکوز سننا ممکن ہے۔ یہ مشینیں جذبات کی پہچان کر کے اسے ردعمل میں ظاہر کرتی ہیں جس سے بولنے والے کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کی بات سنی جا رہی ہے۔
اے آئی یا مصنوعی ذہانت کے یہ سیکھنے کے طریقے جیسے جذباتی پیچیدگی کو پہچاننا، مشکل احساسات کے لیے جگہ دینا اور غیر ضروری حل پیش نہ کرنا انسانی سامعین کے لیے اہم سبق ہیں۔
مزید پڑھیے: کیا مصنوعی ذہانت صحت کی دنیا میں بھی انقلاب لا سکتی ہے؟
تاہم محققین خبردار کرتے ہیں کہ اے آئی کے ساتھ تعلقات پر ضرورت سے زیادہ انحصار خطرناک ہو سکتا ہے اور حقیقی انسانی تعلقات کی جگہ نہیں لے سکتا۔
مزید پڑھیں: مصنوعی ذہانت سے ریسرچرز کی جاب کو سب سے زیادہ خطرہ، حیران کن دعویٰ
ماہر نفسیات ایمیلی کیسریل کے مطابق اے آئی ہمیں بہتر سامع بننے کی تحریک دے سکتا ہے اور ہمدردی کی تربیت میں مدد کر سکتا ہے مگر حقیقی انسانی سننے کے تجربے کی گہرائی اور تبدیلی کی طاقت مشینیں ابھی تک فراہم نہیں کر سکیں۔














