دیلارا اپنے کام کی دکان میں دوپہر کے وقفے پر تھیں جب ایک لمبے قد کا مرد ان کے پاس آیا اور کہا کہ میں قسم کھاتا ہوں سرخ بالوں کا مطلب ہے کہ آپ حال ہی میں دل ٹوٹا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل کا پھر اسمارٹ چشمے لانے کا اعلان، کیا یہ کاوش کامیاب ہوجائے گی؟
مرد نے گفتگو جاری رکھی اور دونوں لفٹ میں چلے گئے اور اس نے دیلارا سے فون نمبر مانگا۔ دیلارا کو اندازہ نہیں تھا کہ مرد نے اس کو اپنے اسمارٹ گلاسز سے چھپ کر فلم کیا تھا جو عام عینک کی طرح دکھائی دیتے ہیں مگر چھوٹا کیمرا رکھتے ہیں جو ویڈیو ریکارڈ کر سکتا ہے۔
یہ ویڈیو بعد میں ٹک ٹاک پر پوسٹ کی گئی اور اسے 13 لاکھ سے زائد بار دیکھا گیا۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے 21 سالہ دیلارا نے میں بس رو دینا چاہتی تھی۔
پتا چلا کہ اس ویڈیو میں اس کا فون نمبر بھی دکھایا گیا تھا جس کے بعد اسے مسلسل کالز اور پیغامات کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی طرح 56 سالہ کم کو بھی ایک مختلف مرد نے پچھلے موسم گرما میں ویسٹ سسیکس کے ساحل پر اسمارٹ گلاسز سے فلم کیا۔
مرد نے کم کی بیکنی کی تعریف کرتے ہوئے بات چیت شروع کی اور اس کے ذاتی اور کام کی معلومات حاصل کیں۔ بعد میں اس نے یہ ویڈیوز آن لائن پوسٹ کیں جو لاکھوں ناظرین تک پہنچیں۔
بی بی سی نے ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر ایسے سینکڑوں چھوٹی ویڈیوز دیکھی ہیں جو مختلف مرد انفلوئنسرز نے پوسٹ کی ہیں۔
یہ انفلوئنسرز خواتین کو قریب لانے کے طریقے سکھانے کا دعویٰ کرتے ہیں اور زیادہ تر ویڈیوز چھپ کر فلم کی جاتی ہیں۔
مزید پڑھیے: میٹا نے رے بین اسمارٹ چشمے لانچ کردیے، خصوصیات کیا ہیں؟
برطانیہ میں عوامی جگہ پر بغیر اجازت کسی کو فلم کرنے کے لیے کوئی مخصوص قانون موجود نہیں تاہم پرائیویسی کے ماہر جیمی ہر ورتھ کا کہنا ہے کہ عوامی جگہ میں ہونا اس کا مطلب نہیں کہ کسی کو فلم کرنا اور پھر ویڈیو آن لائن ڈالنا جائز ہے۔
ٹک ٹاک نے ابتدائی طور پر ویڈیو پر کوئی خلاف ورزی نہیں پائی مگر بی بی سی کی تحقیقات کے بعد ویڈیو ہٹا دی گئی اور کہا گیا کہ ہراساں کرنے والی ویڈیوز کمیونٹی گائیڈ لائنز کے تحت ہٹائی جائیں گی۔
وزیر برائے خواتین کی حفاظت جیس فلپس نے کہا کہ خواتین اور لڑکیوں کی چھپ کر فلمنگ قابل مذمت ہے اور ہم کسی کو اس سے فائدہ نہیں اٹھانے دیں گے۔
مزید پڑھیں: ایمیزون نے ڈرائیورز کے لیے اے آئی اسمارٹ چشمے متعارف کرا دیے
دیلارا نے بتایا کہ فون نمبر کی وجہ سے اسے کئی ہفتوں تک رات کے وقت بھی مسلسل کالز اور پیغامات آئے۔ کم اور دیلارا دونوں کا کہنا ہے کہ اس طرح فلم کیے جانے سے وہ استحصال اور ذاتی حدود کی خلاف ورزی محسوس کرتی ہیں اور قانون میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔
پرائیویسی ماہر اور قانونی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس نوعیت کی ویڈیوز موجودہ قوانین کے تحت واضح طور پر غیر قانونی نہیں ہو سکتیں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو خواتین کی حفاظت کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
کم نے کہا کہ کسی کو دوسروں کو بغیر اجازت فلم کرنے اور اس سے منافع کمانے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: شاپنگ کے شوقینوں کے لیے بڑی خبر، اب جلد اے آئی آپ کے لیے خریداری اور پیمنٹ کرے گی
دیلارا اور کم کا کہنا ہے کہ اس تجربے نے ان کے اعتماد کو توڑ دیا ہے اور وہ اب ہر کسی پر یقین کرنے میں محتاط ہیں۔














