چین کی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) نے سینٹرل ملٹری کمیشن، کے نائب چیئرمین جنرل ژانگ یو شیا اور ایک اور سینیئر فوجی افسر جنرل لیو ژین لی کو برطرف کردیا ہے۔
چین کے محکمہ دفاع نے ملک کے اعلیٰ فوجی جنرل ژانگ یو شیا کے خلاف ‘شدید ضابطہ شکنی اور قانون کی خلاف ورزی’ کے الزامات پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ وزارت دفاع نے جنرل ژانگ کے خلاف مزید تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم چین میں اس طرح کے الزامات عموماً بدعنوانی کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: بھارتی فوج میں بڑھتی بےچینی، بھارتی آرمی چیف کا ملکی دفاعی صنعت پر عدم اعتماد کا اظہار
اعلان میں بتایا گیا کہ ایک اور سینیئر فوجی افسر جنرل لیو ژین لی بھی تحقیقات کے دائرے میں ہیں۔ یہ اقدام گزشتہ اکتوبر میں نو اعلیٰ جنرلز کے برخاست ہونے کے بعد سامنے آیا ہے، جو دہائیوں میں فوج پر سب سے بڑی عوامی کریک ڈاؤن میں سے ایک تھا۔
75 سالہ ژانگ سینٹرل ملٹری کمیشن کے نائب چیئرمین ہیں، جو صدر شی جن پنگ کی زیر قیادت کمیونسٹ پارٹی کا فوجی ادارہ ہے اور مسلح افواج کو کنٹرول کرتا ہے۔ ژانگ پارٹی کے 24 رکنی پولیٹ بیورو کے بھی رکن ہیں، جو پارٹی کا اعلیٰ فیصلہ ساز ادارہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے: چینی ہتھیاروں سے بھارتی فوجی ’پگھل‘ گئے تھے، امریکی سینیٹر کا متنازع دعویٰ
جنرل ژانگ کا تعلق ایک فوجی خاندان سے ہے، ان کے والد چینی کمیونسٹ پارٹی کے بانی جنرلز میں شامل تھے۔ ژانگ نے 1968 میں فوج میں شمولیت اختیار کی اور چند سینیئر رہنماؤں میں شامل ہیں جن کے پاس براہِ راست جنگی تجربہ موجود ہے۔ چین کی روایتی ریٹائرمنٹ عمر کے بعد بھی انہیں عہدے پر برقرار رکھا گیا، جو صدر شی کے ان پر اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔
صدر شی جن پنگ نے بدعنوانی کو کمیونسٹ پارٹی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے خلاف جنگ سنگین اور پیچیدہ ہے۔














