سرکاری خرچ پر پارلیمانی وفد کے عمرے کے دورے کی خبریں بے بنیاد، قومی اسمبلی کی وضاحت

منگل 27 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

قومی اسمبلی کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ سرکاری خرچ پر قومی اسمبلی کے ممبران کو حج یا عمرے کی کوئی سہولت حاصل نہیں ہے اور نہ ہی ایسی سہولت دی جا سکتی ہے۔

ترجمان کے مطابق، قومی اسمبلی میں نومبر 2016 میں منظور ہونے والی قرارداد کے تحت ہر سال قومی اسمبلی کے ممبران کا ایک وفد ذاتی خرچ پر 21 ربیع الاول کو روزہ رسول پر حاضری دیتا ہے۔ اس قرارداد کے مطابق وفد کے تمام ممبران اپنے اخراجات خود برداشت کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی تقرری، پرویز الٰہی بھی بول پڑے

ترجمان نے مزید بتایا کہ ایس او پیز کے تحت وزارت مذہبی امور صرف انتظامی امور میں سہولت فراہم کرتی ہے اور اس کے تحت وزارت کسی قسم کے اخراجات برداشت نہیں کرتی۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری خرچ پر کسی بھی حج یا عمرے کے دورے کی تجویز کسی رکن کی ذاتی رائے ہو سکتی ہے، لیکن کسی ایسی تجویز کی منظوری نہیں دی گئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو 10 سے 15 دن کی ڈیڈ لائن، معاہدہ نہ ہوا تو ’سنگین نتائج‘ کی دھمکی

غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں وزیراعظم نے فلسطینی مؤقف بھرپور انداز میں پیش کیا، عطا اللہ تارڑ

سعودی عرب نے سابق امریکی سینٹکام کمانڈر کو کنگ عبدالعزیز میڈل سے نواز دیا

’عمران خان رہائی فورس‘ کے قیام میں اب تک کیا پیشرفت ہوئی؟

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

بنگلہ دیشی الیکشن، اور سونے کی درست ترتیب

عمران خان کو تحریک انصاف سے بچاؤ