بھارت: آر ایس ایس نواز بی جے پی کا گاندھی پالیسیوں سے مکمل انحراف، قاتل کو ہیرو بنا دیا گیا

منگل 27 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

30 جنوری کو بھارت میں یومِ شہدا منایا جاتا ہے، یہ وہ دن ہے جب قوم بابائے قوم مہاتما گاندھی کو یاد کرتی ہے، جنہیں 1948 میں ناتھورام گوڈسے نے قتل کیا۔ تاریخ کا یہ سیاہ باب اس حقیقت سے جڑا ہے کہ گوڈسے کی فکری پرورش اسی آر ایس ایس کے ماحول میں ہوئی جس نے گاندھی کے سیکولر، ہمہ گیر اور عدم تشدد پر مبنی بھارت کے تصور کی مخالفت کی۔

مزید پڑھیں:  ہریانہ انتخابات: برازیلی ماڈل کے متعدد ووٹس، راہول گاندھی نے مودی حکومت کی دھاندلی کا پردہ فاش کردیا

آج المیہ یہ ہے کہ اقتدار میں وہی نظریاتی عناصر موجود ہیں جنہیں گاندھی نے اپنی زندگی میں فرقہ وارانہ سوچ رکھنے والی، آمریت پسند قوتیں قرار دیا تھا۔ آر ایس ایس کے زیرِ اثر بی جے پی حکومت کی پالیسیاں گاندھی کے امن، رواداری اور ہم آہنگی کے فلسفے سے کھلی متصادم دکھائی دیتی ہیں۔

بی جے پی کے بعض رہنما ناتھورام گوڈسے کو ہیرو بنا کر پیش کرتے رہے ہیں۔ بھوپال سے بی جے پی کی رکنِ پارلیمنٹ کی جانب سے گوڈسے کو بھارت کا قابلِ فخر بیٹا کہنا گاندھی کے نظریات کی صریح توہین کے مترادف ہے۔

گاندھی کا ہندومت نہ تو تنگ نظر تھا اور نہ ہی کسی ایک مذہب تک محدود۔ ان کا تصورِ بھارت ایک ایسا سیکولر سماج تھا جہاں ہندو، مسلمان، عیسائی سب برابر کے شہری ہوں۔ اس کے برعکس آر ایس ایس اور بی جے پی کے بیانیے میں مسلمان اور عیسائیوں کو اکثر اندرونی خطرہ قرار دیا جاتا ہے، جو بھارتی سیکولر سیاست کے زوال کی علامت ہے۔

ہندو مسلم اتحاد کا خواب آج بھی گاندھی کے قاتل نظریات رکھنے والوں کو بے چین رکھتا ہے۔ اسی بے چینی کے تحت بی جے پی قیادت گاندھی کی وراثت کو مٹانے کی کوشش کرتی نظر آتی ہے۔ کہیں وزیرِ اعظم مودی کو گاندھی سے بڑا برانڈ قرار دیا جاتا ہے، تو کہیں گاندھی کے نام سے منسوب قوانین اور اداروں سے ان کا نام آہستہ آہستہ حذف کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: ’مودی ٹرمپ اور امریکا سے خوفزدہ ہیں ‘، راہول گاندھی کی بھارتی وزیرِاعظم پر تنقید

ہر سال 30 جنوری کو وزیرِ اعظم راج گھاٹ پر رسمی حاضری تو دیتے ہیں، مگر عملی طور پر وہ پالیسیاں نافذ کی جاتی ہیں جو نفرت کو ہوا دیتی ہیں، گاندھیائی اداروں کو کمزور کرتی ہیں، گوڈسے کی مدح سرائی کو پسِ پردہ جگہ دیتی ہیں اور گاندھی کے نظریاتی اثرات کو قانون اور ریاستی ڈھانچے سے مٹانے کی کوشش کرتی ہیں۔

یہ طرزِ عمل کھلی منافقت ہے۔ دن میں شہید کو خراجِ عقیدت، رات میں اس کے افکار کا قتل۔ گاندھی کو حقیقی خراجِ تحسین یہی ہے کہ اس زہر کو مسترد کیا جائے جس نے انہیں قتل کیا تھا، نہ کہ ان کی یاد کو محض سیاسی دکھاوے کے لیے استعمال کیا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ نے 12 ارب ڈالر کا سنگ میل عبور کر لیا

’میں نازیبا کپڑے نہیں پہنتی‘، رمضان ٹرانسمیشن میں ساڑھی پر تنقید کے بعد جویریہ سعود کی وضاحت

دی ہنڈرڈ میں پاکستانی کرکٹرز کی شرکت خطرے میں، آئی پی ایل روابط آڑے آگئے

حکومتی مراعات: ایپل کمپنی پاکستان میں آئی فون تیار کرے گی

ہاکی کی بحالی کا مشن شروع، ایڈہاک صدر نے پی ایچ ایف میں بڑی اصلاحات کا اعلان کردیا

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

بنگلہ دیشی الیکشن، اور سونے کی درست ترتیب