کراچی میں آن لائن شاپنگ کے دوران شہری کے ساتھ حیران کن اور تکلیف دہ واقعہ پیش آیا، جہاں مہنگے کپڑوں کے آرڈر کے عوض آٹے کی بوری موصول ہوئی۔ متاثرہ شہری نے کپڑوں کے برانڈ اور نجی کورئیر کمپنی کے خلاف کنزیومر کورٹ شرقی میں درخواست دائر کردی، جس پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:برطانیہ: نابالغ لڑکیوں کو آن لائن ہراساں کرنے پر بھارتی طالبعلم گرفتار
کنزیومر کورٹ شرقی میں دائر درخواست کے مطابق شہری نے یکم دسمبر کو آن لائن کپڑوں کا آرڈر دیا تھا، جس کی مالیت 55 ہزار روپے سے زائد تھی۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ 4 دسمبر کو نجی کورئیر کمپنی کے ذریعے پارسل موصول ہوا، تاہم جب اسے کھولا گیا تو کپڑوں کے بجائے آٹے کی بوری نکلی۔
درخواست میں بتایا گیا ہے کہ اس غیر متوقع صورتحال کے بعد شہری نے متعلقہ کپڑوں کے برانڈ سے ای میل اور کسٹمر سپورٹ کے ذریعے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی، مگر کسی قسم کا جواب نہیں دیا گیا۔ شہری کے مطابق بعد ازاں قانونی نوٹس بھیجنے پر برانڈ نے رابطہ کرکے رقم واپس کرنے کی یقین دہانی کروائی، تاہم کچھ عرصے بعد رقم کی واپسی کے بجائے واؤچر دینے کی پیشکش کی گئی، جسے درخواست گزار نے فراڈ قرار دیا۔

شہری نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ کپڑوں کی پوری رقم پچیس فیصد سود کے ساتھ واپس دلوائی جائے، جبکہ ذہنی اذیت اور پریشانی کے عوض 2 لاکھ روپے بطور ہرجانہ بھی دلایا جائے۔ درخواست میں کورئیر کمپنی کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔
کنزیومر کورٹ شرقی نے ابتدائی سماعت کے بعد کپڑوں کے برانڈ اور کورئیر کمپنی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 31 جنوری تک جواب طلب کرلیا ہے، جبکہ مزید کارروائی آئندہ سماعت میں کی جائے گی۔














