بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 21 کے متنازع الیکشن کیس کی سماعت کے دوران دوبارہ گنتی کے عمل، ووٹوں میں غیر معمولی اضافے اور ہزاروں ووٹ مسترد ہونے پر سنگین سوالات اٹھا دیے گئے۔
کیس کی سماعت چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں وفاقی آئینی عدالت کے 3 رکنی بینچ نے کی۔
چیف جسٹس امین الدین خان نے سماعت کے دوران الیکشن ایکٹ کے تحت دوبارہ گنتی کے قانونی طریقہ کار پر وضاحت طلب کی۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان اسمبلی کے حلقہ 21 سے متعلق انتخابی عذرداری پرالیکشن کمیشن کو نوٹس جاری
صالح بھوتانی کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر تاحال فارم 47 موجود ہے۔
جس کے مطابق صالح بھوتانی نے 30 ہزار 910 ووٹ حاصل کر کے پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ علی حسن زہری کو 17 ہزار ووٹ ملے۔
خواجہ حارث کے مطابق دوبارہ گنتی کے بعد صالح بھوتانی کے 13 ہزار 507 ووٹ کینسل کر دیے گئے، حالانکہ دوبارہ گنتی کی درخواست میں صرف خدشات کا ذکر کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: بلوچستان کے نو منتخب رکن اور وزیر علی حسن زہری تنازعات کا شکار کیوں؟
انہوں نے مؤقف اپنایا کہ الیکشن کے روز پولنگ کے بعد حالات خراب ہو گئے، لڑائی جھگڑے ہوئے اور سڑکیں بند کی گئیں۔ واقعے کی ایف آئی آر بھی درج ہے تاہم تاحال چالان پیش نہیں کیا گیا۔
وکیل نے مزید بتایا کہ ریٹرننگ افسر نے اس صورتحال سے متعلق الیکشن کمیشن کو خط بھی لکھا تھا۔
اس موقع پر چیف جسٹس امین الدین خان نے دریافت کیا کہ اگر الزامات درست ثابت ہوں تو الیکشن ایکٹ کے تحت دوبارہ گنتی کا کیا قانونی طریقہ کار ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں: الیکشن کمیشن نے جے یو آئی کی خواتین کی مخصوص نشست پر فیصلہ سنا دیا
جواب میں خواجہ حارث نے بتایا کہ دوبارہ گنتی ممکن ہوتی ہے اور اسی عمل کے دوران 10 ہزار 577 ووٹوں کا اضافہ سامنے آیا۔
ان کے مطابق پہلی گنتی میں 76 ہزار ووٹ نکلے تھے جبکہ دوبارہ گنتی میں 87 ہزار ووٹ سامنے آئے۔
بعد ازاں صالح بھوتانی کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل مکمل کر لیے۔
مزید پڑھیں: گلگت بلتستان میں عام انتخابات کب ہوں گے؟ الیکشن کمیشن نے تاریخ کا اعلان کر دیا
علی حسن زہری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ معاملہ 39 پولنگ اسٹیشنز سے متعلق ہے۔
ان کے مطابق دوبارہ گنتی کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے دوبارہ انتخابات کا حکم دیا تھا، جسے دونوں فریقین نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔
فریقین کی استدعا پر سپریم کورٹ نے بعد ازاں دوبارہ گنتی کا حکم دیا۔
عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ علی حسن زہری کے وکیل فاروق ایچ نائیک کل بھی اپنے دلائل جاری رکھیں گے، جس کے بعد کیس کی مزید سماعت ہوگی۔














