ڈومز ڈے (قیامت) کلاک ایک علامتی گھڑی ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انسانیت خود ساختہ تباہی یعنی دنیا کے خاتمے کے کتنے قریب ہے۔ اس گھڑی میں آدھی رات دنیا کے خاتمے کی علامت سمجھی جاتی ہے اور وقت کو آدھی رات کے قریب یا دور کر کے عالمی خطرات کی شدت ظاہر کی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سال 2025 کے 10 اہم ترین عالمی واقعات کیا تھے؟
اس گھڑی کو آگے یا پیچھے کرنے کا فیصلہ ماہرین کرتے ہیں جو ایٹمی جنگ کے خطرات، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر بڑے عالمی بحرانوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ ان عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے سیکنڈ کی سوئی کو آدھی رات کے قریب یا دور کیا جاتا ہے۔
گزشتہ سال ڈومز ڈے کلاک کو آدھی رات سے صرف 89 سیکنڈ پہلے پر مقرر کیا گیا تھا جو اس وقت تک کا سب سے خطرناک مقام تھا۔
اگر ڈومز ڈے کلاک آدھی رات پر پہنچ جائے تو کیا ہوگا؟
اگر یہ گھڑی آدھی رات پر پہنچ جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کوئی تباہ کن ایٹمی حملہ یا شدید قدرتی آفت رونما ہو چکی ہے جو انسانیت کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہے۔
ڈومز ڈے کلاک: 2026 کی تازہ ترین صورتحال
منگل 27 جنوری کو ڈومز ڈے کلاک کو مزید آگے بڑھا کر 85 سیکنڈ تا آدھی رات کر دیا گیا۔ دنیا کے معروف سائنسدانوں نے اس فیصلے کی وجوہات میں عالمی جنگ کا خطرہ، موسمیاتی تبدیلی، اور مصنوعی ذہانت سے جڑے خدشات کو قرار دیا۔
مزید پڑھیے: دنیا کے سمندروں میں 2025 میں ریکارڈ حدت، شدید موسمی بحران کا خدشہ
یہ گھڑی سنہ 1947 میں متعارف ہونے کے بعد اب تک آدھی رات کے سب سے قریب پہنچ چکی ہے۔ ہر سال اس کی ترتیب بلٹن آف دی ایٹامک سائنٹسٹس کی جانب سے دی جاتی ہے جو یہ طے کرتا ہے کہ انسانیت خود تباہی کے کتنے قریب ہے۔
بلٹن آف دی ایٹامک سائنٹسٹس کا مؤقف
ادارے کے ماہرین کے مطابق سنہ 2025 ڈومز ڈے کلاک کے لیے ایک انتہائی مایوس کن سال ثابت ہوا کیونکہ موسمیاتی تبدیلی اور جنگوں کے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔
بلٹن کی صدر اور سی ای او الیگزینڈرا بیل نے عالمی سطح پر قیادت کی ناکامی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ڈومز ڈے کلاک کا پیغام بالکل واضح ہے۔ تباہ کن خطرات بڑھ رہے ہیں، عالمی تعاون کمزور ہو رہا ہے اور ہمارے پاس وقت بہت کم رہ گیا ہے۔ تبدیلی نہ صرف ضروری ہے بلکہ ممکن بھی ہے مگر اس کے لیے عالمی رہنماؤں کو فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔
ڈومز ڈے کلاک کی تاریخ
سنہ1947 میں بلٹن آف دی ایٹامک سائنٹسٹس نے ایک رسالے کی حیثیت اختیار کی جس کے پہلے سرورق پر فنکار مارٹل لینگسڈورف کی تیار کردہ گھڑی شائع کی گئی۔ یہی تصویر بعد میں ڈومز ڈے کلاک کے نام سے مشہور ہوئی۔
ابتدا میں یہ گھڑی صرف ایٹمی جنگ کے خطرے کو جانچنے کے لیے بنائی گئی تھی تاہم بعد کے برسوں میں موسمیاتی تبدیلی جیسے عوامل کو بھی اس میں شامل کر لیا گیا۔
سنہ1953 میں ہائیڈروجن بم کی تیاری کے بعد گھڑی کو 2 منٹ تا آدھی رات کر دیا گیا جبکہ سنہ 1984 میں سرد جنگ کے دوران یہ 3 منٹ پر آ گئی۔
سنہ1991 میں سرد جنگ کے خاتمے اور امریکا و روس کے درمیان اسٹارٹ معاہدے کے بعد گھڑی کو پیچھے ہٹا کر 17 منٹ تا آدھی رات کر دیا گیا جو اب تک کا سب سے محفوظ وقت تھا۔
مزید پڑھیں: جاپان: دنیا کا سب سے بڑا ایٹمی پاور پلانٹ 15 سال بعد بحالی کے قریب پہنچ گیا
سنہ2020 میں گھڑی کو 100 سیکنڈ تا آدھی رات مقرر کیا گیا اور اس کے بعد سے یہ مسلسل آدھی رات کے قریب آتی جا رہی ہے۔
ڈومز ڈے کلاک کیسے کام کرتی ہے؟
ہر سال سائنس اور سیکیورٹی بورڈ کے اراکین 2 بنیادی سوالات پر غور کرتے ہیں کہ کیا اس سال انسانیت پچھلے سال کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہے یا زیادہ خطرے میں اور کیا موجودہ صورتحال 79 سالہ تاریخ کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہے یا کم؟
ان سوالات کے جوابات کی بنیاد پر آئندہ سال کے لیے ڈومز ڈے کلاک کا وقت طے کیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ ڈومز ڈے کلاک دراصل کوئی اصل گھڑی نہیں بلکہ ایک علامت ہے جسے ماہر سائنسدان یہ سمجھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں کہ دنیا کتنے بڑے خطرات کے قریب ہے۔ اس گھڑی میں آدھی رات دنیا کی مکمل تباہی کی علامت سمجھی جاتی ہے جیسے ایٹمی جنگ، شدید موسمیاتی تباہی یا کوئی ایسا واقعہ جو انسانیت کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہو۔
جب دنیا میں خطرات بڑھتے ہیں مثلاً جنگوں کا خدشہ، ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ یا موسمیاتی تبدیلی تو ماہرین اس گھڑی کی سوئی کو آدھی رات کے قریب کر دیتے ہیں اور اگر حالات بہتر ہوں، عالمی تعاون بڑھے اور امن قائم ہو تو گھڑی کو آدھی رات سے دور کر دیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: موسمیاتی تبدیلی سے 2050 تک مزید 4 کروڑ افراد انتہائی غربت میں جا سکتے ہیں، عالمی بینک
سادہ لفظوں میں ڈومز ڈے کلاک ایک انتباہ ہے۔ یہ ہمیں ڈرانے کے لیے نہیں بلکہ خبردار کرنے کے لیے بنائی گئی ہے تاکہ دنیا کے رہنما اور عوام یہ سمجھ سکیں کہ اگر بروقت فیصلے نہ کیے گئے تو ہم خود اپنی بقا کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
اس کو اگر مزید سادہ الفاظ میں سمجھنے کی کوشش کی جائے تو کچھ ایسا ہے کہ ڈومز ڈے کلاک اصل میں ایک گرافک تصویر (تصویراتی گھڑی) ہے یعنی ایک ایسی گھڑی جو کاغذ، ویب سائٹ اور میڈیا میں دکھائی جاتی ہے۔ یہ دیوار پر لٹکنے والی یا وقت بتانے والی گھڑی نہیں ہوتی۔ اس میں عام گھڑی کی طرح ڈائل اور سوئیاں بنی ہوتی ہیں مگر اس کا مقصد وقت بتانا نہیں بلکہ خطرے کی سطح سمجھانا ہوتا ہے۔
ہر سال سائنسدان باقاعدہ اعلان کرتے ہیں کہ گھڑی اب آدھی رات سے کتنے سیکنڈ دور ہے مثلاً 90 سیکنڈ یا 85 سیکنڈ۔ پھر اسی حساب سے اس گھڑی کی تصویر میں سوئی کو آگے یا پیچھے کر دیا جاتا ہے۔ میڈیا، اخبار اور نیوز چینلز اسی اپڈیٹ شدہ تصویر کو دکھاتے ہیں۔
مزید پڑھیں: برازیل میں عالمی ماحولیاتی کانفرنس کا اختتام، موسمیاتی تبدیلی روکنے کے لیے کیا پیشرفت ہوئی؟
یوں سمجھ لیں جیسے اسکول میں ٹریفک لائٹ کی تصویر دکھا کر بتایا جاتا ہے کہ سبز محفوظ ہے، پیلا خطرہ قریب ہے اور سرخ رکنے کا اشارہ ہے۔ بالکل اسی طرح ڈومز ڈے کلاک ایک سمبول (علامت) ہے، جو ہمیں بتاتی ہے کہ دنیا خطرے کے کتنے قریب پہنچ چکی ہے۔













