لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ اور سگیاں کے قریب سیوریج لائن میں گرنے والی خاتون اور اس کی کمسن بچی کی لاشیں ریسکیو آپریشن کے بعد برآمد کر لی گئیں، جبکہ واقعے پر وزیراعلیٰ پنجاب نے نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی۔
لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ کے قریب سیوریج لائن میں گرنے والی 24 سالہ خاتون سعدیہ کی لاش تقریباً 3 کلو میٹر دور آؤٹ فال روڈ سے برآمد کر لی گئی تھی، جبکہ اس کی 9 ماہ کی بچی رعد کی لاش 17 سے 18 گھنٹے کی مسلسل تلاش کے بعد سگیاں کے علاقے سے نکال لی گئی۔ ریسکیو 1122 کے مطابق دونوں لاشیں علیحدہ علیحدہ مقامات سے ملیں۔
یہ بھی پڑھیے:لاہور میں ماں بیٹی کے مین ہول میں گرنے کی اطلاع جھوٹ نکلی
ریسکیو ذرائع نے بتایا تھا کہ متاثرہ خاندان سیر و تفریح کے لیے لاہور آیا تھا۔ اہلِ خانہ پہلے مینارِ پاکستان گئے تھے اور بعد ازاں داتا دربار پہنچے تھے۔ اسی دوران سعدیہ اپنی کمسن بچی کے ساتھ سیوریج لائن کی منڈیر پر بیٹھی تھیں کہ دونوں اچانک نیچے گر گئی تھیں۔
لاہور: کھلے نالے میں عورت اور بچی کے گرنے کا واقعہ!
فیملی کے ساتھ ایک تو حادثہ ہُوا اوپر سے لواحقین ہی کو گرفتار کر لیا گیا۔
— Dr Shama Junejo (@ShamaJunejo) January 29, 2026
ریسکیو پنجاب کے ترجمان فاروق احمد کے مطابق ریسکیو کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو شام 7 بج کر 32 منٹ پر ماں اور بچی کے سیوریج لائن میں گرنے کی اطلاع موصول ہوئی تھی، جس کے بعد فوری طور پر سرچ اور ریسکیو ٹیمیں روانہ کی گئی تھیں۔ طویل آپریشن کے بعد پہلے خاتون اور پھر بچی کی لاش تلاش کر لی گئی۔ سرچ و ریسکیو آپریشن کی نگرانی ڈسٹرکٹ آفیسر ریسکیو شاہد وحید قمر کر رہے تھے۔
پولیس نے واقعے کی تحقیقات کے لیے بچی کے والد اور رکشہ ڈرائیور کو حراست میں لے لیا تھا۔ پولیس کے مطابق دونوں افراد کو تشدد کے بغیر صرف تفتیش اور سوال و جواب کے لیے حراست میں رکھا گیا تھا، جبکہ تحقیقات کا عمل جاری رکھا گیا تھا تاکہ واقعے کی اصل وجوہات معلوم کی جا سکیں۔
لاہور میں سیوریج لائن میں گرنے والی 10 ماہ کی بچی ردا کی لاش سگیاں کے قریب سے مل گئی pic.twitter.com/U9yBqKYmYe
— Zubair Ali Khan (@ZubairAlikhanUN) January 29, 2026
واقعے پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سخت نوٹس لیا تھا اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی، جسے 24 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر ڈائریکٹر ٹیپا شبیر حسین، پراجیکٹ ڈائریکٹر زاہد عباس اور ڈپٹی ڈائریکٹر شبیر احمد کو غفلت اور کوتاہی پر معطل کر دیا گیا تھا۔
ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی ظہیر اقبال چنڑ نے لاہور بھاٹی گیٹ واقعے کو ماں بیٹی کی لاشیں ملنے کے بعد بھی فیک نیوز قرار دے دیا۔ pic.twitter.com/bBQmXYiJlC
— Aatif Khattak (@MalakAatifKhan) January 29, 2026
دوسری جانب وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے ابتدائی طور پر داتا دربار کے سامنے ماں اور بچی کے مین ہول میں گرنے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ریسکیو 1122 کی جانچ پڑتال کے بعد ایسا کوئی واقعہ پیش آنے کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔ تاہم بعد ازاں خاتون اور بچی کی لاشیں ملنے سے صورتحال واضح ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعلیٰ مریم نواز کا لودھراں میں بچے کے مین ہول میں گرنے پر غم و غصہ، ڈپٹی کشمنر کو ہٹانے کا حکم
افسوسناک امر یہ ہے کہ ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی ظہیر اقبال چنڑ نے لاہور بھاٹی گیٹ واقعے کو ماں بیٹی کی لاشیں ملنے کے بعد بھی فیک نیوز قرار دے دیا۔
ریسکیو حکام کا کہنا تھا کہ واقعے کے وقت علاقہ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا، تاہم اطلاع ملتے ہی اسپیشلائزڈ ٹیمیں اور غوطہ خور چند ہی منٹوں میں جائے وقوعہ پر پہنچ گئے تھے۔ لاہور انتظامیہ کے مطابق سیوریج لائن کا معائنہ بھی کیا گیا تھا اور تحقیقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا تھا۔












