امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پرامید بیانات کے باوجود امریکی ڈالر کی قدر میں مسلسل کمی کا رجحان برقرار ہے۔
گزشتہ روز ٹرمپ نے ڈالر کی قدر کا دفاع کرتے ہوئے اسے ’بہترین‘ قرار دیا، تاہم ان کے اس بیان کے فوراً بعد ڈالر کی قیمت 4 سال کی کم ترین سطح پر آ گئی۔
یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کا امریکی ڈالر پر کیا اثر پڑ رہا ہے؟
گزشتہ ہفتے کے بعد سے امریکی ڈالر اپنی قدر کا تقریباً 2.8 فیصد کھو چکا ہے۔
ڈالر کی موجودہ قدر کے بارے میں سوال کے جواب میں ٹرمپ نے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں یہ بہت اچھا ہے۔
The DXY is at a 4-year low (96s). This is a competitive devaluation. The US is jawboning the dollar down to boost exports, and the market believes the Fed has capitulated. Investors are dumping Treasuries for Gold. The dollar is losing its "store of value" status. #DXY #USDollar pic.twitter.com/iSUKL3vc2j
— nairobistonks (@nairobistonks) January 29, 2026
’ڈالر کی قدر۔۔۔ ڈالر بہت اچھی کارکردگی دکھا رہا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ چین اور جاپان کو دیکھیں تو وہ ان سے سخت مقابلہ کرتے تھے کیونکہ وہ ہمیشہ ان کی کرنسی کی قدر کم کرنا چاہتے تھے۔
گزشتہ چند ماہ سے امریکی ڈالر مختلف عوامل کے باعث دباؤ کا شکار ہے، جن میں تجارتی محصولات کی دھمکیاں، فیڈرل ریزرو کی خودمختاری میں ممکنہ کمی، شرحِ سود میں کمی کے امکانات اور بڑھتا ہوا مالیاتی خسارہ شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کی گرین لینڈ ٹریڈ دھمکی، عالمی مارکیٹس میں ہلچل، ڈالر کمزور، یورپی صنعتیں پریشان
ان حالات کے نتیجے میں سرمایہ کار امریکی معیشت کے استحکام پر اعتماد کھوتے جا رہے ہیں اور محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر دھاتوں خصوصاً سونے کی جانب متوجہ ہورہے ہیں۔
ڈالر پر سرمایہ کاروں کے متزلزل اعتماد کے باعث بدھ کے روز سونے کی قیمت 5200 ڈالر فی اونس سے تجاوز کر گئی، جو مالیاتی منڈیوں کی تاریخ کی ایک غیر معمولی اور ریکارڈ توڑ تیزی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق، یہ امریکی ڈالر پر اعتماد کے بحران کو ظاہر کرتا ہے، جب تک ٹرمپ انتظامیہ غیر یقینی تجارتی، خارجہ اور معاشی پالیسیوں پر قائم رہتی ہے، ڈالر کی یہ کمزوری برقرار رہ سکتی ہے۔













