پاکستانی وائس اے آئی اسٹارٹ اپ اپ لفٹ اے آئی نے 35 لاکھ ڈالر کی سیڈ فنڈنگ حاصل کر لی ہے۔ اس سرمایہ کاری کی قیادت عالمی شہرت یافتہ ایکسیلیریٹر وائی کومبینیٹر نے کی جبکہ پاکستان کے معروف ابتدائی مرحلے کے وینچر فنڈ انڈس ویلی کیپیٹل بھی اس راؤنڈ کا حصہ رہے۔
کمپنی کے جاری کردہ بیان کے مطابق فنڈنگ راؤنڈ میں پائنیئر فنڈ، کنجکشن، مومنٹ وینچرز اور سلیکون ویلی سے تعلق رکھنے والے اینجل سرمایہ کاروں نے بھی سرمایہ کاری کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل نے ’کم قیمت‘ اے آئی پلس پلان عالمی سطح پر متعارف کرادیا
اپ لفٹ اے آئی کی بنیاد زید قریشی اور حماد ملک نے رکھی جو اس سے قبل ایپل اور ایمازون جیسے عالمی اداروں میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ یہ اسٹارٹ اپ اردو، پنجابی اور بلوچی سمیت علاقائی زبانوں کے لیے وائس آرٹیفیشل انٹیلیجنس ماڈلز تیار کرتا ہے تاکہ صارفین مقامی زبان میں گفتگو کے ذریعے ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کر سکیں۔

کمپنی کا فلیگ شپ ماڈل ‘Orator’ اردو زبان میں انسانی انداز سے قریب تر آواز میں گفتگو کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اپ لفٹ اے آئی کے مطابق اس کے پلیٹ فارم کو ڈویلپرز اور چھوٹے کاروباروں میں نمایاں پذیرائی حاصل ہو رہی ہے اور اس وقت 1,000 سے زائد ڈویلپرز اس کے APIs کے ذریعے مختلف حل تیار کر رہے ہیں جن میں ایف آئی آر رجسٹریشن بوٹس اور دیہی علاقوں کے لیے ہیلتھ انٹیک سسٹمز شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کا نیا کمال، میڈیکل طلبہ کی تربیت کے لیے فرضی مریضوں کا استعمال
کمپنی کا مؤقف ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں وائس فرسٹ ٹیکنالوجی نہایت اہمیت رکھتی ہے جہاں 42 فیصد بالغ آبادی ناخواندہ ہے جس کے باعث ڈیجیٹل معیشت تک رسائی محدود رہتی ہے۔
اپ لفٹ اے آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر حماد ملک کا کہنا ہے کہ وائس ٹیکنالوجی عوام کو علم اور معاشی مواقع فراہم کر کے ملکی مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق کمپنی کا مقصد اس ٹیکنالوجی کو مستقبل کے بجائے حال میں قابلِ عمل بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایلون مسک نے اے آئی کو ’سپر سونک سونامی‘ قرار دے دیا، ان کی وارننگ کیا ہے؟
انڈس ویلی کیپیٹل کے پارٹنر عاطف اعوان نے کہا کہ ابھرتی ہوئی منڈیوں میں وائس ٹیکنالوجی ڈیجیٹل معیشت تک رسائی کا بنیادی ذریعہ بن رہی ہے۔ ان کے مطابق اپ لفٹ اے آئی علاقائی زبانوں کے لیے بنیادی وائس اے آئی انفراسٹرکچر فراہم کر رہی ہے۔
زراعت، بینکاری، صحت اور حکومتی شعبوں میں وائس فرسٹ ٹیکنالوجی ایسے طبقات تک رسائی ممکن بنائے گی جہاں روایتی ٹیکسٹ بیسڈ حل مؤثر ثابت نہیں ہوتے۔
سنجینٹا پاکستان کے ہیڈ آف اے آئی ٹرانسفارمیشن سلطان راجہ کے مطابق اپ لفٹ اے آئی کی وائس ٹیکنالوجی کسانوں تک ان کی اپنی زبان میں معلومات پہنچا کر زرعی پیداوار میں اضافے میں مدد دے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیٹا سینٹرز میں بجلی کی بے تحاشا کھپت، اوپن اے آئی نے حل ڈھونڈ لیا
اپ لفٹ اے آئی کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر زید قریشی نے بتایا کہ کمپنی نے ڈیٹا اکٹھا کرنے، لیبلنگ اور ماڈلز کی تربیت کا تمام عمل خود انجام دیا ہے کیونکہ تیار شدہ حل علاقائی زبانوں کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتے۔
کمپنی نے بتایا کہ اس فنڈنگ کا تقریباً 10 لاکھ ڈالر ڈیٹا اکٹھا کرنے اور لیبلنگ پر خرچ کیا جائے گا جس کے نتیجے میں پاکستان میں ہزاروں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے جبکہ باقی سرمایہ تحقیق و ترقی پر خرچ کیا جائے گا تاکہ پاکستان کی بڑی زبانوں کے لیے جدید وائس ماڈلز تیار کیے جا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: چین نے بچوں کو اے آئی کے مضر اثرات سے بچانے کے لیے کمر کس لی
اگرچہ اپ لفٹ اے آئی خود کو عالمی سطح پر وائس ٹیکنالوجی فراہم کرنے والا ادارہ تصور کرتی ہے تاہم کمپنی کے مطابق قریبی اور درمیانی مدت میں اس کی توجہ پاکستان پر ہی مرکوز رہے گی۔
کمپنی کے مطابق اس کا پلیٹ فارم فی الحال سرکاری اداروں کے بجائے اسٹارٹ اپس اور چھوٹے کاروباروں کے لیے دستیاب ہے اور اس وقت 1,000 سے زائد ڈویلپرز اس کی API استعمال کر رہے ہیں۔













