امریکی کانگریس کی رکن الہان عمر نے منگل کے روز مینیسوٹا میں ٹاؤن ہال کے دوران حملے کے بعد کہا ہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ان کے اور سومی کمیونٹی کے خلاف نفرت انگیز زبان نے اس واقعے کو جنم دیا۔ الہان عمر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور خاص طور پر ٹرمپ کے سومی باشندوں کی ملک بدر کرنے کے احکامات پر ناراض تھا۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی رکن کانگریس الہان عمر پر حملہ، مشتبہ شخص گرفتار
الہان عمر نے منگل کو مینیپولس میں نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ ہر بار جب صدر نے میرے اور میری کمیونٹی کے خلاف نفرت انگیز زبان استعمال کی، مجھے موت کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ٹرمپ اقتدار میں نہ ہوتے تو انہیں حکومت سے سیکیورٹی فراہم کرنے کی ضرورت نہ پڑتی۔
🚨HOLY MOLY: Ilhan Omar just COOKED Donald Trump.
“Just last night, he was on stage moments before I was attacked TALKING ABOUT ME.” Then afterward “he said ‘I don’t think about her.’ Does he not remember? Is he suffering from dementia?”
He picked the wrong woman to mess with. https://t.co/TCuZf6iElh pic.twitter.com/HgUMvpS4m4
— CALL TO ACTIVISM (@CalltoActivism) January 29, 2026
یاد رہے کہ حملہ آور جیمز کازمیرچاک نے الہان عمر پر سرنج سے کسی مادے کو چھڑکنے کی کوشش کی۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق یہ مادہ ایپل سائڈر ونیگر تھا۔ ایف بی آئی اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے، جبکہ اس پر ابھی باقاعدہ الزامات عائد نہیں ہوئے۔ امریکی قانون کے مطابق کانگریس کے رکن پر حملہ کرنا وفاقی جرم ہے۔

ٹرمپ نے ماضی میں الہان عمر کو ان کے وطن صومالیہ کا ذکر کرتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا۔ 2019 میں انہوں نے ٹوئٹ کیا تھا کہ الہان عمر اور دیگر خواتین کانگریس رکن ملک واپس جائیں۔ حالیہ برسوں میں ٹرمپ نے الہان عمر کو فراڈ کے الزامات سے بھی جوڑا۔
امریکی ایوانِ نمائندگان نے الہان عمر کے خلاف سرزنش کی قرارداد مسترد کر دی
کانگریس کے دیگر رہنماﺅں نے حملے کی مذمت کی۔ رپبلکن رکن نیتھنئیل موران نے کہا کہ سیاسی یا مذہبی اختلافات کسی بھی حالت میں تشدد کا جواز نہیں بن سکتے۔ تاہم کچھ رپبلکن رہنماﺅں نے الہان پر تنقید بھی کی، جن میں سینٹر ٹومی ٹیوبرویل اور رپبلیکن رینڈ فائن شامل ہیں، جنہوں نے اس واقعے کو الہان کے لیے خطرہ قرار دینے کے بجائے اس پر تنقید کی۔

امریکا میں سیاسی تشدد کے خطرات میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ کیپیٹل پولیس کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کانگریس اراکین اور ان کے اہل خانہ کے خلاف 14,938 دھمکیاں موصول ہوئیں، جو 2024 کے مقابلے میں کافی زیادہ ہیں۔













