سوات سے پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی ڈاکٹر امجد علی، جو اسمبلی میں کرپشن فری معاشرے کے بارے میں طویل تقریریں کرنے اور دوسروں کو ’ایمانداری کے سرٹیفکیٹس‘ تقسیم کرنے کے لیے جانے جاتے تھے، اب الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سامنے اثاثوں کے معاملے میں طلب کر لیے گئے ہیں۔ ڈاکٹر امجد علی کو 3 فروری 2026 کو اسلام آباد میں پیش ہونا ہے، کیونکہ ان کے ظاہر کردہ آمدنی اور اثاثوں میں کچھ تضاد پایا گیا ہے۔ لگتا ہے کہ تقریروں کا دور ختم ہو گیا اور اب احتساب کا وقت ہے۔
مزید پڑھیں:خیبر پختونخوا مائنز بل، پی ٹی آئی کمیٹی کے اعتراضات، علی امین گنڈاپور تنہا رہ گئے؟
ڈاکٹر امجد علی نووارد سیاستدان نہیں ہیں۔ انہوں نے خیبر پختونخوا میں اہم عہدے سنبھالے ہیں۔ اس وقت ہاؤسنگ وزارت سے منسلک ہیں، 2018 سے 2023 تک صوبائی وزیر برائے معدنیات رہ چکے ہیں اور اس سے قبل چیف منسٹر کے خصوصی معاون برائے ہاؤسنگ رہے ہیں۔
وہ 3 مرتبہ سوات کے حلقوں سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے 2013–2018، 2018–2023، اور پھر 2024 سے دوبارہ۔ علاوہ ازیں وہ ٹھیکیدار پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں۔ اتنے زیادہ وزارتوں اور اختیارات کے باوجود ان کے اثاثے کس طرح اچانک آمدنی سے بڑھ گئے، یہ سوال اب عوام کے سامنے ہے۔
مزید پڑھیں:تحریک انصاف چھوڑنے والے ارکان پارٹی کے لیے کتنا بڑا دھچکا ثابت ہوئے؟
پی ٹی آئی کا نعرہ کرپشن کے خاتمے کا تھا، لیکن لگتا ہے کہ صفائی سب سے پہلے اپنے اندر سے شروع کرنا ہوگی۔ دوسروں پر الزام لگانا آسان تھا، لیکن اب قانون نے خود دروازہ کھٹکھٹا دیا ہے۔














