وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور و سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو آنکھ کے معائنے کے لیے اسپتال لائے جانے کے حوالے سے کابینہ کو پیشگی مطلع کرنا ضروری نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ’عمران خان کو معائنے کے لیے پمز لایا گیا‘، وفاقی وزیر اطلاعات نے تصدیق کردی
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور و سینیٹر رانا ثنااللہ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو آنکھ کے معائنے کے لیے پمز اسپتال لائے جانے سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ یہ کوئی وزرا سے متعلقہ معاملہ نہیں ہے، ضروری نہیں تھا کہ کابینہ کو پہلے مطلع کیا جاتا کہ عمران خان کی آنکھ میں تکلیف ہے تو انہیں اسپتال لایا جا رہا ہے۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ پہلا کنسرن سپرینڈنٹنٹ جیل اڈیالہ کا تھا، یہ ان کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری تھی، عمران خان کا جیل میں روزانہ چیک اپ ہوتا ہے، جیل میں اسپتال اور ڈاکٹر موجود ہیں، اگر جیل کا ڈاکٹر قیدی کو ریفر کرے تو کوئی ضروری نہیں ہے کہ وزرا کو پہلے بتایا جائے اور ساری دنیا کو بتایا جائے اور پھر قیدی کو اسپتال لے جایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: آنکھ کا مسئلہ یا کچھ اور؟ عمران خان کو پمز اسپتال لانے کے بعد کیا کچھ ہوتا رہا؟
انہوں نے کہا کہ عمران خان کو اگر آنکھ کی تکلیف تھی تو جیل سپرینڈنٹنٹ نے لازمی ان کا چیک اپ کروایا ہوگا، بلکہ میری معلومات کے مطابق ان کا روزانہ چیک اپ ہوتا ہے، ہائیکورٹ کے حکم کے مطابق ان کو بدستور سہولیات دی جا رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان کو اسپتال لا کر اسپیشلسٹس سے علاج کروایا گیا ہے تو اس میں کوئی اعتراض والی بات نہیں ہے، علاج ان کا حق ہے جو انہیں ملنا چاہیے۔
متاثرین وادی تیرہ کو واجبات کی ادائیگی سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وادی تیرہ کے متاثرین کے لیے صوبائی حکومت نے 4 ارب روپے مختص کیے ہیں، تو 4 ارب روپیہ لوگوں میں تقسیم ہونا چاہیے، یہ نہیں ہو سکتا کہ متاثرین کے نام پر کوئی اور لوگ پیسے کھا جائیں اور باتیں بھی کرتے رہیں، دوسری طرف متاثرین اپنی دہائیں دیتے رہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کا وزیر صحت اور پمز میڈیکل بورڈ کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ
رانا ثنااللہ نے کہا کہ یہ عوام کے ٹیکس کا پیسا ہے، یہ پیسہ سخت سردی کے موسم میں لوگوں کی مدد کے لیے رکھا گیا ہے تو ان لوگوں کو ملنا چاہیے۔














