آپریشن سندور سے متعلق سی ایچ پی ایم کی رپورٹ پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جسے ماہرین نے غیر معروضی اور جانبدارانہ قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ’آپریشن سندور پر آپ ویڈیو بنانے میں جلدی کرگئے‘، پاکستانی کے سوال پر دھرو راٹھی لاجواب ہوگئے
ناقدین کے مطابق رپورٹ میں بھارتی مؤقف اور بیانیے پر حد سے زیادہ انحصار کیا گیا ہے جبکہ اس کے برعکس موجود شواہد، متضاد حقائق اور منطقی تضادات کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔
تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں متنازع دعوؤں کو حقائق کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور قابلِ تصدیق جوابی شواہد کو شامل نہیں کیا گیا جس کے باعث رپورٹ کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرزِ عمل نے رپورٹ کو ایک سنجیدہ اسٹریٹجک تجزیے کے بجائے وکالتی یا جانبدارانہ تحریر بنا دیا ہے۔
مزید پڑھیے: آپریشن سندور میں بھارت کے کتنے اور کون کون سے جنگی طیارے تباہ ہوئے، تفصیلات سامنے آگئیں
ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی پالیسی یا سیکیورٹی تجزیے کے لیے ضروری ہے کہ تمام دستیاب شواہد، مختلف نقطۂ نظر اور زمینی حقائق کو غیر جانبداری سے پرکھا جائے، تاہم مذکورہ رپورٹ اس بنیادی معیار پر پورا نہیں اترتی جس سے اس کی افادیت اور معتبر حیثیت پر سوالات جنم لیتے ہیں۔














