امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کو چین کے ساتھ کاروباری تعلقات بڑھانے سے خبردار کیا ہے، جبکہ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے بیجنگ کے ساتھ تعلقات کی بحالی کو معاشی طور پر فائدہ مند قرار دیا ہے۔
چین کے دورے کے دوران جمعے کے روز کیئر اسٹارمر کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ تعلقات کو ایک نئی سطح پر لے جانا برطانیہ کے لیے اہم اقتصادی مواقع پیدا کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کی ٹریڈ وار نے برطانیہ اور چین کو قریب کردیا؟
دوسری جانب واشنگٹن میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ان قریبی تعلقات پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ برطانیہ کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔
تاہم صدر ٹرمپ نے اپنے اس تبصرے کی مزید کوئی وضاحت نہیں کی۔
Trump will never let any other country do anything good for themself! He called Starmer visit to China "dangerous"
— Moa (@Asdull1Muhammed) January 30, 2026
اسٹارمر نے جمعرات کو چینی صدر شی جن پنگ سے 3 گھنٹے طویل ملاقات کی، جس میں بہتر مارکیٹ رسائی، کم ٹیرف، سرمایہ کاری معاہدوں کے ساتھ ساتھ فٹبال اور شیکسپیئر جیسے موضوعات بھی زیرِ بحث آئے۔
برطانوی وزیراعظم نے اس تعلق کو ’زیادہ سنجیدہ اور بالغ شراکت داری‘ قرار دیا۔
اسی دوران چین کے دارالحکومت بیجنگ میں یو کے چائنا بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے اسٹارمر نے کہا کہ صدر شی کے ساتھ ان کی ملاقاتیں ’انتہائی خوشگوار‘ رہیں اور وہ اسی سطح کے روابط کے خواہاں تھے۔
مزید پڑھیں: لندن اور بیجنگ میں قربت؟ برطانوی وزیر اعظم اسٹارمر کا چین کا اہم دورہ شروع
ان کے مطابق ویزا فری سفری سہولت اور اسکاچ وہسکی پر کم ٹیرف جیسے معاہدے نہ صرف اہم ہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور باہمی احترام کو بھی فروغ دیتے ہیں۔
ٹرمپ، جو اپریل میں چین کے دورے کا ارادہ رکھتے ہیں، اس سے قبل کینیڈا کو بھی بیجنگ کے ساتھ معاشی معاہدوں پر ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔
ان کے کامرس سیکریٹری ہاورڈ لٹنک نے برطانیہ کی کوششوں پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چین ایک مشکل برآمدی منڈی ہے اور وہاں اپنی مصنوعات فروخت کرنا آسان نہیں۔
مزید پڑھیں: چین نے برطانیہ کے شہریوں کے لیے ویزا قوانین میں نرمی کا اعلان کردیا
برطانوی وزیراعظم نے واضح کیا کہ ان کا ملک امریکا اور چین میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور نہیں۔
ان کے بقول امریکا کے ساتھ برطانیہ کے دفاعی، سیکیورٹی، انٹیلیجنس اور تجارتی تعلقات بدستور مضبوط ہیں، جس کی مثال گزشتہ برس امریکا کی جانب سے 150 ارب پاؤنڈ کی سرمایہ کاری ہے۔
واضح رہے کہ کیئر اسٹارمر حالیہ ہفتوں میں صدر ٹرمپ کے بعض بیانات پر کھل کر اختلاف بھی کر چکے ہیں، جن میں نیٹو افواج اور گرین لینڈ سے متعلق امریکی مؤقف شامل ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ اپنی خودمختار خارجہ پالیسی پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔













