وفاقی حکومت کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کو الیکشن کمیشن کی تشکیل نو اور عام انتخابات قبل از وقت کرانے کی پیشکش کی خبروں کو وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے مکمل طور پر غلط اور بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے کڑی شرط عائد کردی
نجی ٹی وی کے اینکر نے اپنے پروگرام میں کہا کہ چند روز قبل ایک 2 اہم ملاقاتیں ہوئیں، جن کے بعد اعلیٰ سطح پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ پی ٹی آئی کو ایک حتمی اور مضبوط پیشکش دی جائے گی، اس پیشکش میں پی ٹی آئی سے کہا جانا تھا کہ وہ پارلیمنٹ میں واپس آئے، پارلیمانی کمیٹیوں میں شمولیت اختیار کرے اور پارلیمانی عمل کا حصہ بنے۔
Absolutely false. I dont know how these stories are cooked up every few days. Strongly rebutted pic.twitter.com/vX20ocUUz8
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) January 29, 2026
محمد مالک نے دعویٰ کیا کہ اس کے بدلے حکومت 2 بڑے اقدامات پر آمادہ ہوگی، جن میں پورے الیکشن کمیشن کی تشکیل نو اور انتخابی قوانین میں ایسی ترامیم شامل ہوں گی، جن سے آئندہ انتخابات شفاف بنائے جاسکیں۔ ان کے مطابق حکومت مقررہ وقت سے ایک سال پہلے عام انتخابات کرانے پر بھی تیار ہوگی۔
اینکر نے مزید کہا کہ اگر یہ پیکیج ڈیل طے پاجاتی ہے تو آنے والے دنوں میں عمران خان اور ان کے قریبی ساتھیوں کے قانونی مسائل میں بھی نرمی دیکھنے میں آسکتی ہے۔ ان کے بقول یہ حکومت کی جانب سے ایک واضح پیشکش ہوگی، جسے قبول یا مسترد کرنے کا اختیار پی ٹی آئی کے پاس ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: میثاق جمہوریت کا مسودہ سامنے آئے گا تو دیکھیں گے، رانا ثنااللہ کا پی ٹی آئی کی پیشکش پر جواب
تاہم ان دعوؤں پر ردعمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ یہ خبریں بالکل غلط ہیں اور انہیں سمجھ نہیں آتا کہ ہر چند دن بعد اس نوعیت کی کہانیاں کیسے بنا لی جاتی ہیں۔ انہوں نے واضح طور پر ان اطلاعات کی تردید کی۔
’حکومت کی جانب سے انتخابات قبل از وقت کرانے یا کسی پیشکش سے متعلق باتیں درست نہیں‘
دوسری جانب پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے بھی اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران ایسی خبروں کو افواہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے انتخابات قبل از وقت کرانے یا کسی پیشکش سے متعلق باتیں درست نہیں اور ان میں کوئی صداقت نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے لیے سیاسی اسپیس کا کم ہونا ان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے، اکبر ایس بابر
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی، عمران خان اور جمہوریت سے متعلق معاملات انتہائی سنجیدہ ہیں اور انہیں محض ذرائع کی بنیاد پر رپورٹ نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق اس حوالے سے پارٹی کا مؤقف جاننے کے لیے انفارمیشن سیکریٹری سے رجوع کیا جانا چاہیے۔
حکومت اور پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے واضح تردید کے بعد اینکر کی جانب سے کیے گئے دعوؤں پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔














