کیا پی ٹی آئی کو الیکشن کمیشن کی تشکیل نو اور قبل از وقت انتخابات کی پیشکش کی گئی؟ حکومت کا واضح مؤقف سامنے آگیا

جمعہ 30 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی حکومت کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کو الیکشن کمیشن کی تشکیل نو اور عام انتخابات قبل از وقت کرانے کی پیشکش کی خبروں کو وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے مکمل طور پر غلط اور بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے کڑی شرط عائد کردی

نجی ٹی وی کے اینکر نے اپنے پروگرام میں کہا کہ چند روز قبل ایک 2 اہم ملاقاتیں ہوئیں، جن کے بعد اعلیٰ سطح پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ پی ٹی آئی کو ایک حتمی اور مضبوط پیشکش دی جائے گی، اس پیشکش میں پی ٹی آئی سے کہا جانا تھا کہ وہ پارلیمنٹ میں واپس آئے، پارلیمانی کمیٹیوں میں شمولیت اختیار کرے اور پارلیمانی عمل کا حصہ بنے۔

محمد مالک نے دعویٰ کیا کہ اس کے بدلے حکومت 2 بڑے اقدامات پر آمادہ ہوگی، جن میں پورے الیکشن کمیشن کی تشکیل نو اور انتخابی قوانین میں ایسی ترامیم شامل ہوں گی، جن سے آئندہ انتخابات شفاف بنائے جاسکیں۔ ان کے مطابق حکومت مقررہ وقت سے ایک سال پہلے عام انتخابات کرانے پر بھی تیار ہوگی۔

اینکر نے مزید کہا کہ اگر یہ پیکیج ڈیل طے پاجاتی ہے تو آنے والے دنوں میں عمران خان اور ان کے قریبی ساتھیوں کے قانونی مسائل میں بھی نرمی دیکھنے میں آسکتی ہے۔ ان کے بقول یہ حکومت کی جانب سے ایک واضح پیشکش ہوگی، جسے قبول یا مسترد کرنے کا اختیار پی ٹی آئی کے پاس ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: میثاق جمہوریت کا مسودہ سامنے آئے گا تو دیکھیں گے، رانا ثنااللہ کا پی ٹی آئی کی پیشکش پر جواب

تاہم ان دعوؤں پر ردعمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ یہ خبریں بالکل غلط ہیں اور انہیں سمجھ نہیں آتا کہ ہر چند دن بعد اس نوعیت کی کہانیاں کیسے بنا لی جاتی ہیں۔ انہوں نے واضح طور پر ان اطلاعات کی تردید کی۔

’حکومت کی جانب سے انتخابات قبل از وقت کرانے یا کسی پیشکش سے متعلق باتیں درست نہیں‘

دوسری جانب پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے بھی اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران ایسی خبروں کو افواہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے انتخابات قبل از وقت کرانے یا کسی پیشکش سے متعلق باتیں درست نہیں اور ان میں کوئی صداقت نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے لیے سیاسی اسپیس کا کم ہونا ان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے، اکبر ایس بابر

انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی، عمران خان اور جمہوریت سے متعلق معاملات انتہائی سنجیدہ ہیں اور انہیں محض ذرائع کی بنیاد پر رپورٹ نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق اس حوالے سے پارٹی کا مؤقف جاننے کے لیے انفارمیشن سیکریٹری سے رجوع کیا جانا چاہیے۔

حکومت اور پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے واضح تردید کے بعد اینکر کی جانب سے کیے گئے دعوؤں پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

غزہ پر خاموشی قبول نہیں، اروندھتی رائے کا برلن فلم فیسٹیول میں شرکت سے انکار

ایم 9 موٹروے حادثہ: اموات کی تعداد 14 ہوگئی، 12 افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے نکلا

رواں سال ڈیڑھ لاکھ افغانوں کی وطن واپسی، افغانستان میں صورتحال سنگین

عمران خان کو نجی اسپتال میں داخل کرانے کا مطالبہ، حکومت کا ردعمل آگیا

ٹی20 ورلڈ کپ: محسن نقوی کا پاک بھارت میچ دیکھنے کے لیے سری لنکا جانے کا امکان

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟