چین کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر اور چینی صدر شی جن پنگ نے جمعرات کو ملاقات کے دوران طویل المدتی، مستحکم اور جامع اسٹریٹجک شراکت داری قائم کرنے پر اتفاق کیا، جس سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف دھمکیوں کا اثر کم ہو گیا۔
گریٹ ہال آف دی پیپل میں 80 منٹ تک جاری رہنے والی ملاقات میں صدر شی نے کہا کہ بین الاقوامی نظام میں حالیہ خلل اور غیر متوقع پالیسیوں سے عالمی استحکام متاثر ہوا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی قوانین تب ہی مؤثر ہو سکتے ہیں جب بڑے ممالک بھی ان پر عمل کریں، اور امریکا کے اقدامات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ بصورت دیگر دنیا جنگل کے قانون کی طرف لوٹ سکتی ہے۔
اسٹارمر، جو 8 برسوں میں چین کا دورہ کرنے والے پہلے برطانوی وزیر اعظم ہیں، نے ملاقات کو نتیجہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین کے ساتھ تعلقات اچھی اور مضبوط جگہ پر ہیں۔ وفد نے وہسکی ٹیرف، ویٹ فری سفر، غیر قانونی نقل مکانی، اور چھوٹی کشتیوں کے استعمال کے مسائل پر بھی پیشرفت کی۔
Growth at home is directly linked to our engagement with the world’s biggest powers.
Today I met with President Xi in Beijing. We affirmed our shared commitment to building a long-term and strategic partnership that will benefit both our countries, while maintaining frank and…cinچین pic.twitter.com/VBubyC1oZi
— Keir Starmer (@Keir_Starmer) January 29, 2026
ڈاؤننگ اسٹریٹ کے مطابق، دونوں ممالک سرحدی سکیورٹی، انٹیلی جنس شیئرنگ، غیر قانونی افراد کی واپسی اور مصنوعی اوپیئڈز کے خلاف کارروائی پر تعاون بڑھانے پر بھی راضی ہوئے۔
اسٹارمر نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ عالمی استحکام اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے مسائل پر مل کر کام کرنا ضروری ہے، اور ان کا کہنا تھا کہ ملاقات نے برطانیہ اور چین کے تعلقات کو مضبوط بنیاد دی ہے۔
دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو بڑھانے اور اختلافات پر کھلی بات چیت جاری رکھنے کا عزم بھی دہرایا۔














