معروف امریکی کاروباری شخصیت ایلون مسک کی 3 بڑی کمپنیوں اسپیس ایکس، ٹیسلا اور ایکس اے آئی کے ممکنہ انضمام (مرجر) پر بات چیت جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کمپنیاں صحافت کے استعمال کی قیمت ادا کریں، پالیسی تحقیقی ادارے کا مطالبہ
غیر ملکی خبر رساں اداروں بلومبرگ اور رائٹرز کی رپورٹس کے مطابق یہ مذاکرات ابتدائی مرحلے میں ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اس وقت 2 ممکنہ منظرناموں پر غور کیا جا رہا ہے۔ پہلے منظرنامے کے تحت اسپیس ایکس اور ٹیسلا کے انضمام کا امکان زیرِ بحث ہے جبکہ دوسرے آپشن میں اسپیس ایکس اور ایلون مسک کی مصنوعی ذہانت پر مبنی کمپنی ایکس اے آئی کے یکجا ہونے پر بات ہو رہی ہے۔
رائٹرز کے مطابق امکان ہے کہ اسپیس ایکس اور ایکس اے آئی کا انضمام اس سال متوقع اسپیس ایکس کے آئی پی او سے قبل ہو سکتا ہے۔ تاہم اسپیس ایکس اور ایکس اے آئی کے نمائندوں نے تاحال عوامی سطح پر اس ممکنہ انضمام پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
دریں اثنا حالیہ سرکاری دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ 21 جنوری کو امریکی ریاست نیواڈا میں 2 نئی کارپوریٹ کمپنیاں K2 Merge Sub Inc. اور K2 Merger Sub 2 LLC کے نام سے رجسٹر کی گئی ہیں، جسے ممکنہ انضمام سے جوڑا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: ایکس اے آئی نے وکی پیڈیا کے مقابلے میں گروکی پیڈیا لانچ کردیا
ماہرین کے مطابق اگر اسپیس ایکس اور ایکس اے آئی کا انضمام ہوتا ہے تو اس سے ایکس اے آئی کو خلا میں ڈیٹا سینٹرز کے قیام پر غور کرنے کا موقع مل سکتا ہے جو ایلون مسک کا دیرینہ خواب رہا ہے۔ اسی طرح اسپیس ایکس اور ٹیسلا کے انضمام کی صورت میں الیکٹرک وہیکل کمپنی کے توانائی ذخیرہ کرنے کے کاروبار کو خلائی ڈیٹا سینٹرز کے تصور سے ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق سال 2025 میں اسپیس ایکس نے ایکس اے آئی میں 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی جبکہ حال ہی میں ٹیسلا نے بھی ایکس اے آئی میں 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایکس اے آئی میں ڈاؤن سائزنگ، 500 سے زیادہ ملازمین نوکری سے فارغ
قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایکس اے آئی نے ایلون مسک کی ملکیت سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کو بھی خرید لیا ہے اور ایکس اے آئی کی مالیت 80 ارب ڈالر جبکہ ایکس کی مالیت 33 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔
تینوں کمپنیوں کے انضمام کا مقصد کیا ہے؟
ٹیسلا، اسپیس ایکس اور ایکس اے آئی کے ممکنہ انضمام کا بنیادی مقصد ایک ایسا طاقتور ٹیکنالوجی ایکوسسٹم تشکیل دینا ہے جس میں مصنوعی ذہانت، حقیقی دنیا کا ڈیٹا، جدید ہارڈویئر اور خلا تک رسائی ایک ہی پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو جائیں۔
ٹیسلا اربوں میلز پر مشتمل ڈرائیونگ ڈیٹا اور سینسرز فراہم کرتی ہے اور ایکس اے آئی اس ڈیٹا کو ذہانت میں بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے جبکہ اسپیس ایکس سیٹلائٹس اور خلائی انفراسٹرکچر مہیا کرتی ہے۔
تینوں کے یکجا ہونے سے ایسی خود سیکھنے اور خود کنٹرول کرنے والی ٹیکنالوجی ممکن ہو سکتی ہے جو دنیا میں بہت کم اداروں کے پاس ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایلون مسک آئندہ دہائی تک ٹیسلا کے سربراہ ہوں گے، کتنا معاوضہ ملے گا؟
اس ممکنہ انضمام کا ایک اہم اسٹریٹیجک پہلو خلا میں ڈیٹا سینٹرز کا قیام بھی ہے جو ایلون مسک کا دیرینہ خواب رہا ہے۔
اسپیس ایکس کے ذریعے انفراسٹرکچر خلا میں پہنچایا جا سکتا ہے، ایکس اے آئی وہاں مصنوعی ذہانت کے ماڈلز چلا سکتی ہے جبکہ ٹیسلا کی توانائی اور بیٹری ٹیکنالوجی اسے عملی شکل دے سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف اخراجات کم ہو سکتے ہیں بلکہ زمینی ریگولیٹری دباؤ اور توانائی کے مسائل سے بھی بچاؤ ممکن ہوگا۔
مزید پڑھیں: ٹیسلا نے ٹیکساس میں بغیر انسانی ڈرائیور والی ٹیکسی سروس لانچ کردی
ماہرین کے مطابق یہ انضمام کاروباری، مالی اور ریگولیٹری سطح پر بھی فائدہ مند ہو سکتا ہے کیونکہ مضبوط کمپنیاں ابھرتی ہوئی ایکس اے آئی کو سرمایہ اور استحکام فراہم کر سکیں گی۔ تاہم اس کے ساتھ یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ اتنی زیادہ ٹیکنالوجی طاقت ایک ہی شخصیت کے زیر اثر آ جائے گی جو مستقبل میں ریگولیٹری تنازعات اور اینٹی ٹرسٹ مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔ اس کے باوجود یہ واضح ہے کہ ایسا انضمام ایلون مسک کے اس وژن کی عکاسی کرے گا جس میں زمین، ذہانت اور خلا ایک ہی نظام میں جُڑ جاتے ہیں۔














