پاکستانی فلم انڈسٹری کے معروف اداکار شان شاہد نے ایک بار پھر بھارت میں کام نہ کرنے سے متعلق اپنے مؤقف کی وضاحت کردی ہے۔ شان شاہد اس وقت اپنی نئی فلم بُھلہ کی شوٹنگ میں مصروف ہیں، جس میں ان کے ساتھ اداکارہ مونا لیزا بھی جلوہ گر ہوں گی۔
حال ہی میں اپنی نئی فلم پر پریس بریفنگ کے دوران شان شاہد نے بھارت میں کام نہ کرنے کے حوالے سے کہا کہ ان کا یہ فیصلہ ذاتی نوعیت کا ہے اور وہ اسے کسی پر مسلط نہیں کرتے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا شان شاہد اداکارہ ریما خان سے شادی کرنا چاہتے تھے؟
ان کے مطابق وہ اس لیے بھارت میں کام نہیں کرتے کیونکہ ان کے والد کا نام ریاض شاہد ہے، جو پاکستان سے بے پناہ محبت رکھنے والے عظیم ہدایتکار تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی اور کے والد کا نام بھی ریاض شاہد ہوتا تو وہ بھی شاید یہی فیصلہ کرتا۔
شان شاہد نے واضح کیا کہ وہ ان فنکاروں کے خلاف نہیں جو بھارت میں کام کرتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان میں فنکاروں کے لیے حالات مشکل ہیں، اس لیے جو جہاں کام کر سکتا ہے، اسے کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: نعمان اعجاز نے شان شاہد کا کیریئر کیسے بچایا؟
انہوں نے کہا کہ ان کا ذاتی مسئلہ کشمیر سے جڑا ہوا ہے، اسی وجہ سے وہ خود بھارت میں کام نہیں کرنا چاہتے۔
اداکار نے یہ بھی کہا کہ وہ علی ظفر یا مونا لیزا سمیت کسی فنکار کے بھارت میں کام کرنے کے خلاف نہیں، تاہم وہ خود اس حوالے سے اپنے فیصلے پر قائم ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان سے اس بارے میں اصرار نہ کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: شان اور معمر رانا نے وعدہ شکنی کی، اداکار سعود قاسمی کے انکشافات
واضح رہے کہ شان شاہد کا تعلق ایک معروف شوبز خاندان سے ہے۔ ان کے والد ریاض شاہد پاکستانی سینما کے نامور ہدایتکار تھے جبکہ ان کی والدہ نیلو بیگم بھی صفِ اول کی اداکارہ رہ چکی ہیں۔
شان شاہد کو ہمیشہ ان کے حب الوطنی پر مبنی مؤقف اور پاکستان میں رہ کر کام کرنے کی ترجیح پر سراہا جاتا رہا ہے۔














